خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 458
458 ان کی زندگیاں بڑی کرب کی حالت میں بسر ہوتی ہیں۔خاوند بدخلق ہو۔چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا تو درکنار، بدزبانی سے کام لے۔تنگیاں دے طعنے دے اور اس غریب کے ماں باپ کو بھی تکلیف دے۔آزار دے، پر آزار باتیں کر کے اس کے دل کو چھلنی کر دے۔ایسا خاوند اپنی بیوی کے لئے مسلسل عذاب کا موجب بنا رہتا ہے اور وہ مجبور و بے اختیار کچھ نہیں کرسکتی۔اگر کوئی سچا احمدی ہے، میری بات سن رہا ہے اور میری بات کا اس کے دل پر اثر ہو سکتا ہے تو اس عید کے وقت میں اسے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی زندگی میں ایک انقلاب برپا کرے۔پھر اسے کچی عید نصیب ہوگی۔ایک مظلوم لڑکی جو کسی کی بیٹی ہے، کسی کے ناز کی پالی ہوئی بیٹی ہے کسی اور کے گھر میں جا کر اس کے رحم و کرم پر آجائے اور اسے ظلم کا نشانہ بنایا جائے یہ بہت بڑا گناہ ہے کوئی معمولی گناہ نہیں ہے۔ایسا شخص اگر باز نہیں آئے گا تو اسے عذاب الیم کی خوشخبری دیتا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ مرنے کے بعد اس کی زندگی درد ناک عذاب میں مبتلا ہوگی۔اس دنیا میں بھی اگر ہوش آ جائے تو ہوش آنے پر انسان کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔خدا کرے یہ عید ہمیں نصیب ہو تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اسلام کی فتح کی عید بھی اس عید کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے۔اگر احمدی معاشرہ گھروں کو جنت نشان بنا دے گا تو خدا کی قسم ! آپ ضرور غالب آئیں گے اور دیر کی بجائے جلد غالب آئیں گے۔کیونکہ یہی وہ عملی نمونہ ہے جس کی آج دنیا منتظر ہے اور سوائے احمدی گھروں کے کسی اور گھر سے یہ ان کو نصیب نہیں ہو سکتا۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔(الفضل 17 جون 1992ء) غریبوں میں تحائف کی تحریک 1999ء میں حضور نے غربا کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کی تحریک میں ایک اور اضافہ کیا اور 19 جنوری 1999ء کے خطبہ عید الفطر میں فرمایا:۔عید کی خوشیوں کو کس طرح منایا جاتا ہے؟ اس سلسلہ میں میں نے گزشتہ سال جماعت کو نصیحت کو تھی کہ غریبوں کی عید بنائیں اور اپنی عید منائیں۔جب آپ غریبوں کی عید بنائیں گے تو اللہ آپ کی عید بنا دے گا اور سچی عید کی خوشی تبھی نصیب ہوگی جب آپ غریبوں کے دکھ درد میں شامل ہو جائیں اور جہاں تک خدا توفیق عطا فرماتا ہے ان کی عید بنانے کی کوشش کریں۔اسی ضمن میں اس سال ایک نئی تحریک