خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 456
456 ہیں اس کی وجہ ان کی عید کی حقیقت سے ناواقفیت ہے۔عیدالفطر دراصل شجر رمضان کا ایک شیریں پھل ہے۔رمضان کے دو بڑے گہرے سبق ہیں۔عبادت الہی اور بنی نوع انسان کے ساتھ سچی ہمدردی۔پس عید کا حقیقی سرور حاصل کرنا ہے تو عبادت پر زور دیں اور دوسرے غربا کے دکھ میں شریک ہوں اور اپنے سکھ ان کے ساتھ تقسیم کر یں۔اس کی عملی شکل بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔آج عید کی نماز کے بعد ضروری امور سے فارغ ہو کر اگر وہ لوگ جن کو خدا نے نسبتا زیادہ دولت عطا فرمائی ہے زیادہ تمول کی زندگی بخشی ہے وہ کچھ تحائف لے کر غریبوں کے ہاں جائیں اور غریب بچوں کے لئے کچھ مٹھائیاں لے جائیں بچوں کے لئے جو ٹافیاں یا چاکلیٹ آپ نے رکھے ہوئے ہیں وہ لیں اور بچوں سے کہیں آؤ بچو آج ہم ایک اور قسم کی عید مناتے ہیں۔ہمارے ساتھ چلو ہم بعض غریبوں کے گھر آج دستک دیں گے۔ان کو عید مبارک دیں گے۔ان کے حالات دیکھیں گے اور ان کے ساتھ اپنے سکھ بانٹیں گے“۔اس طرح اگر آپ غریب لوگوں کے گھروں میں جائیں گے اور ان کے حالات دیکھیں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بعض لوگ ایسی لذتیں پائیں گے کہ ساری زندگی کی لذتیں ان کو اس لذت کے مقابل پر بیچ نظر آئیں گی اور حقیر دکھائی دیں گی کچھ ایسے بھی واپس لوٹیں گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہوں گے اور وہ استغفار کر رہے ہوں گے۔ان آنسوؤں میں وہ اتنی لذت پائیں گے کہ دنیا کے قہقہوں اور مسرتوں اور ڈھول ڈھمکوں اور بینڈ باجوں میں وہ لذتیں نہیں ہوں گی۔ان کو بے انتہا ابدی لذتیں حاصل ہوں گی اور زائل نہ ہونے والے بے انتہا سروران کو عطا ہوں گے۔یہ ہے وہ عید جو محمد مصطفی ﷺ کی عید ہے یہ ہے وہ عید جو در حقیقت سچے مذہب کی عید (الفضل 26 جولائی 1983ء) 66 ہے۔اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے جماعت نے خوشیوں کے نئے چمن دریافت کئے ہیں اور بہت سے احباب ذاتی تجربات کے ذریعہ حضور کے فرمان کی سچائی کے گواہ بن چکے ہیں۔تحریک کے اثرات اور بیویوں سے حسن سلوک کی تاکید اس تحریک کے ثمرات کا ذکر کرتے ہوئے اور بیویوں سے حسن سلوک کی تاکید کرتے ہوئے خطبہ