خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 430
430 باہمی کشمکش کی بجائے غیروں کا دل جیتنے پر صرف ہونے لگیں۔نیا لٹریچر وجود میں آیا۔دماغوں نے نئے نئے طریق سوچے۔حکمت کے نئے گر ایجاد کئے گئے۔ذہنی اور قلبی صلاحیتوں کو جلا ملی۔دعاؤں سے عرش کو ہلایا گیا تو پھل گرنے لگے اور یہ نظام مستحکم بنیادوں پر قائم ہو گیا جس پر مستقبل میں فلک بوس عمارتیں تعمیر ہونی مقدر ہیں۔نئے ممالک میں نفوذ 1982ء میں خلافت رابعہ کے آغاز کے وقت جماعت 80 ممالک میں قائم تھی۔1984ء میں حضور کی ہجرت کے وقت جماعت 91 ممالک میں قائم ہو چکی تھی اور 2003ء میں حضور کی وفات کے وقت جماعت 175 ملکوں میں مضبوطی سے قدم جما چکی تھی اور اب جماعت احمدیہ 189 ملکوں میں قدم جما چکی ہے۔خلافت رابعہ میں جن ممالک میں احمدیت قائم ہوئی۔حضور کی ہجرت لندن کے بعد ان کی تفصیل سن وار پیش خدمت ہے۔1985ء: موریطانیہ، روانڈا، برونڈی ، موزمبیق 1986ء: بورکینا فاسو، طوالو، کیری باس ، ویسٹرن سمووا، روڈرگ آئی لینڈ، برازیل، تھائی لینڈ ، بھوٹان، نیپال، یوگوسلاویہ، زنجبار۔1987ء کونگو (براز ویلیا)، پاپوانیوگنی، فن لینڈ ، پرتگال،Nauro اور آئس لینڈ۔1988ء: ٹونگا، ساؤتھ کو ریا، جزائر مالدیپ، گیپون ،سولومن آئی لینڈز۔1990ء: مارشل آئی لینڈ، مائکرونیشیا،Tokelau میکسیکو۔1991ء:Ne Caledonia ،منگولیا۔1992ء:Chuukis، Guam لتھوانیا ، بیلور شیا۔1993ء بنگری، کولمبیا، ازبکستان، یوکرین، تا تارستان 1994ء: البانیہ، رومانیہ، بلغاریہ ، چاڈ، کیپ ورڈ ، قازقستان، Norfolkis۔1995ء :کمبوڈیا، ویتنام، لاؤس، جمیکا،Grenada ایکیٹوریل گئی ،Macedonia۔