خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 365 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 365

365 حضور نے مجلس نصرت جہاں قائم کر کے مربوط اور ثمر آور کوشش کا ارشاد فر مایا۔چنانچہ حضور کے دورہ کے 6 ماہ کے اندر ستمبر 70ء میں غانا میں پہلا سکول اور نومبر 1970ء میں غانا میں ہی پہلا ہسپتال قائم ہو گیا۔خلافت ثالثہ کے اختتام تک 6 افریقن ممالک (غانا)، سیرالیون، نائیجیریا، گیمبیا، لائبیریا ، آئیوری کوسٹ) میں 19 ہسپتال اور 24 سکول کام کر رہے تھے اور ان اداروں کا سالانہ بجٹ 4 کروڑ سے تجاوز کر چکا تھا۔ہسپتالوں اور سکولوں کی کروڑوں روپوں کی عمارتیں اس کے علاوہ تھیں۔جون 1982 ء تک 27لاکھ مریضوں کا علاج کیا گیا۔سکولوں سے 28 ہزار بچوں نے تعلیم حاصل کی۔آسمانی تائید و نصرت: اس سکیم میں اللہ تعالیٰ نے جو برکت ڈالی اس کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔اس سکیم کے تحت بہت سے احباب نے جانی قربانی کا جو نمونہ پیش کیا وہ بھی کچھ کم اہم نہیں ہے۔بہت سے ڈاکٹروں نے مغربی افریقہ میں نئے کلینک کھولنے اور انہیں چلانے کے لئے تین تین سال وقف کئے۔میں نے ان سے کہا تم خدمت کے لئے جار ہے ہو۔جاؤ ایک جھونپڑا ڈال کر کام شروع کر دو اور مریضوں کی ہر ممکن خدمت بجالا ؤ۔میں ابتدائی سرمائے کے طور پر انہیں صرف پانچ سو پونڈ دیتا تھا۔انہوں نے اخلاص سے کام شروع کیا۔غریبوں سے ایک پیسہ لئے بغیر ان کی خدمت کی۔امراء نے وہاں کے طریق کے مطابق اپنے علاج کے اخراجات خود ادا کئے۔اب وہاں ہمارے ایسے ہسپتال بھی ہیں جن کی بچت تمام اخراجات نکالنے کے بعد ایک ایک لاکھ پونڈ سالانہ ہے۔دو سال کے اندر اندر سولہ ہسپتال کھولنے کی توفیق مل گئی۔پھر ان کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور اب تو میڈیکل سنٹروں کی تعداد چو بیس پچیس ہوگئی ہوگی وہاں لوگ ہمارے پیچھے پڑے رہتے ہیں کہ ہمارے علاقہ میں بھی ہسپتال قائم کرو۔اسی طرح مغربی افریقہ کے ممالک میں پہلے یہ حالت تھی کہ مسلمانوں کا کوئی ایک پرائمری سکول بھی نہ تھا۔سارے سکول عیسائی مشنوں کے ہوتے تھے۔مسلمان بچے بھی انہی کے سکولوں میں پڑھنے پر مجبور تھے۔وہ براہ راست بائبل کی تعلیم دیئے بغیر ان کا عیسائی نام رکھ کر انہیں چپکے سے عیسائی بنا لیتے تھے۔جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے وہاں پرائمری، مڈل اور ہائر سیکنڈری سکول کھولنے کی توفیق دی۔