خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 341
341 فرمایا: اس تحریک پر قریباً تین سال ہو چکے ہیں اور اس کا پہلا دور ختم ہو گیا ہے۔اس عرصہ میں ایک حد تک مخلصین جماعت نے اس طرف توجہ دی اور ایک حد تک اس کے اچھے نتائج نکلے۔لجنہ اماءاللہ ربوہ نے ربوہ میں بڑا اچھا کام کیا ہے۔اسی طرح ربوہ سے باہر بعض لجنات نے بھی اور خدام اور انصار اور دوسرے عہدیداران نے بھی اس کی طرف بہت توجہ دی اور اپنے ماحول میں قرآن کریم کے علوم کے سکھانے ، ان کے سمجھنے سمجھانے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کی۔اللہ تعالیٰ نے ان کی کوششوں کو فضل سے نوازا اور بڑے خوش کن نتائج نکلے لیکن پھر بھی ہماری کوشش کا نتیجہ سو فیصدی نہیں نکلا یعنی ان تین سالوں میں ہر وہ شخص جو اپنی عمر اور سمجھ اور استعداد کے لحاظ سے قرآن کریم ناظرہ پڑھنا سیکھ سکتا تھا یا ترجمہ سیکھ سکتا تھا یا اس کی تفسیر کے بعض حصے سیکھ سکتا تھا اس نے ایسا نہیں کیا۔اس جدوجہد کا ایک دور ختم ہو گیا ہے اور اب ہمیں ایک نیا دور شروع کرنا چاہئے۔اس کے لئے میری تجویز یہ ہے کہ اصلاح وارشاد میں ایک ایڈیشنل ناظر مقرر ہو جو تعلیم قرآنی اور جو اس کے دیگر لوازم ہیں ان کا انچارج ہو۔مثلاً وقف عارضی کی جو تحریک ہے اس کا بڑا مقصد بھی یہ تھا اور ہے کہ دوست رضا کارانہ طور پر اپنے خرچ پر مختلف جماعتوں میں جائیں اور وہاں قرآن کریم سیکھنے سکھانے کی کلاسز کو منظم کریں اور منظم طریق پر وہاں کی جماعت کی اس رنگ میں تربیت ہو جائے کہ وہ قرآن کریم کا جوابشاشت سے اپنی گردن پر رکھیں اور دنیا کے لئے ایک نمونہ بن جائیں۔وقف عارضی کا نظام بھی اسی ناظر اصلاح و ارشاد کے سپرد ہونا چاہئے اور اور بہت سی تفاصیل ہیں ان کو انشاء اللہ مشاورت میں مشورہ کے ساتھ طے کر لیا جائے گا اور ایک نگران کمیٹی ہوگی جو مشتمل ہو ، ناظر اصلاح و ارشاد، ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد اور ایک تیسرے ہمارے ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد ہیں ان پر نیز انصاراللہ کے صدر اور خدام الاحمدیہ کے صدر پر۔یہ پانچ عہد یدار ایک کمیٹی کی حیثیت سے اس بات کی نگرانی کریں کہ جماعت میں زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کی محبت پیدا کی جائے“۔خطبات ناصر جلد 2 ص 557,554 انجمن موسیان کے فرائض: 5 اگست 1966ء کو حضور نے انجمن موصیان اور موصیات قائم کرنے کا اعلان فرمایا تھا۔خطبہ جمعہ