خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 340
340 کے بچوں کو قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کا کام میں مجلس انصاراللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ضلع سیالکوٹ کی دیہاتی جماعتوں میں یہ کام مجلس خدام الاحمدیہ کرے۔ضلع جھنگ میں جو جماعتیں ہیں ان کے بچوں کو قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کا کام مجلس انصاراللہ کے سپر د کیا جاتا ہے۔ان کے علاوہ جو جماعتیں ہیں ان میں اس اہم کام کی طرف نظارت اصلاح وارشاد کو خصوصی توجہ دینی چاہئے۔اس منصوبہ کی تفاصیل متعلقہ محکے تیار کریں اور ایک ہفتہ کے اندراندر مجھے پہنچائیں۔( الفضل 19 فروری 1966ء) پھر حضور نے قرآن کریم کی برکتوں، عظمتوں اور روحانی تاثیرات پر مشتمل خطبات جمعہ کا ایک سلسلہ شروع کیا جو 24 جون تا 16 ستمبر 1966 ء جاری رہے اور قرآنی انوار کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔اس سلسلہ خطبات میں حضور نے جماعت کے عہدیداران کو اس اہم تحریک کو کامیاب بنانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔میں پھر تمام جماعتوں کو تمام عہدیداران خصوصاً امرائے اضلاع کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ قرآن کریم کا سیکھنا ، جاننا اس کے علوم کو حاصل کرنا اور اس کی باریکیوں پر اطلاع پانا اور ان راہوں سے آگاہی حاصل کرنا جو قرب الہی کی خاطر قرآن کریم نے ہمارے لئے کھولے ہیں از بس ضروری ہے اس کے بغیر ہم وہ کام ہرگز سرانجام نہیں دے سکتے جس کے لئے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے پس میں آپ کو ایک دفعہ پھر آگاہ کرتا ہوں اور متنبہ کرتا ہوں کہ آپ اپنے اصل مقصد کی طرف متوجہ ہوں اور اپنی انتہائی کوشش کریں کہ جماعت کا ایک فرد بھی ایسا نہ رہے نہ بڑا نہ چھوٹا نہ مرد نہ عورت نہ جوان نہ بچہ کہ جسے قرآن کریم ناظرہ پڑھنا نہ آتا ہو۔جس نے اپنے ظرف کے مطابق قرآن کریم کے معارف حاصل کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔الفضل 27 جولا ئی 1966 ء۔خطبات ناصر جلد 1 ص 298 تعلیم القرآن کو ہی منظم کرنے کے لئے حضور نے 1966ء میں وقف عارضی کی سکیم کا اجراء فرمایا اور بیشمار احباب نے اس ذریعہ سے قرآن ناظرہ اور ترجمہ سیکھا اور روحانی پاکیزگی حاصل کی۔مرکزی نظام میں اضافے : 3 سال بعد حضور نے اس تحریک کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے خطبہ جمعہ 28 مارچ 1969ء میں