خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 330
330 ہے۔پہلے جب میں نے ایک ایک ماہ کی آمدنی دینے کی تحریک کی اس وقت چندہ ماہواری اور چندہ جلسہ سالانہ چندہ خاص میں شامل نہیں ہوتا تھا۔مگر اب کی مرتبہ چندہ ماہواری بھی اس میں شامل ہے اور چندہ جلسہ سالانہ بھی گویا اصل چندہ خاص صرف ساٹھ فیصدی کے قریب رہ جاتا ہے۔الفضل 17 ستمبر 1931 ء ) حضور کی اس تحریک پر جماعت نے لبیک کہا اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔چنانچہ مطلوبہ رقم جس سے قرضے بھی ادا ہو سکتے تھے اور عام چندہ کی مقدار بھی پوری ہو جاتی تھی۔وقت کے اندر پوری کر دی گئی۔حضور فرماتے ہیں:۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ چندہ خاص کی تحریک میں سے سوالاکھ روپیہ مقررہ میعاد کے اندر جمع ہوگیا ہے اور عام بجٹ کا قرضہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ادا ہو گیا ہے اس کامیابی پر جس قدر بھی (الفضل 15 دسمبر 1931 ء ) اللہ تعالیٰ کا شکر یہ ادا کریں تھوڑا ہے"۔تحریک قرضہ سلسلہ کی ضروریات کے پیش نظر فروری 1934ء میں مرکزی اداره نظارت امور عامہ کی طرف سے ساٹھ ہزار روپیہ قرض کی ایک تحریک کی گئی کہ مخلصین جماعت کم از کم ایک ایک سورو پید اس کار خیر میں الفضل 11 فروری 1934ء ص 3) دیں۔یہ تحریک غیر معمولی طور پر کامیاب ہوئی اور ساٹھ ہزار کی بجائے پچھتر ہزار روپیہ اس میں جمع ہو گیا۔الفضل 29 مئی 1934 ء ) جو میعاد کے اندر واپس بھی کر دیا گیا اس تحریک کی کامیابی کا سہرا ناظر امور عامه خانصاحب فرزند علی صاحب کے سر تھا۔جس پر نہ صرف حضرت مصلح موعودؓ نے بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا بلکہ ایثار پیشہ احمدیوں کے اس جذ بہ اخلاص کو مسلم پریس نے بھی بہت سراہا۔چنانچہ لکھنو کے روزنامہ حقیقت 25 مئی 1934 ء نے لکھا:۔یہ واقعہ ہے کہ اس وقت ہندوستان کی تمام اسلامی جماعتوں میں سب سے زیادہ منتظم اور سرگرم عمل احمدی جماعت ہے جس نے دنیا کے گوشہ گوشہ میں اپنی تبلیغی مشن قائم کر دیئے ہیں حالانکہ اس