خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 313
313 ،، صورت میں آدھ گھنٹہ کام کرنا تھا۔یہ وقار عمل کی ابتدائی شکل تھی۔“ خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1938ء میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔اگر ان ( نوجوانوں ) کے ذہن میں یہ بات ڈال دی جائے اور ان کے قلوب پر اس کا نقش کر دیا جائے کہ جو شخص کام کرتا ہے وہ عزت کا مستحق ہے اور جو کام نہیں کرتا بلکہ نکما رہتا ہے وہ اپنی قوم اور اپنے خاندان کے لئے عار کا موجب ہے اور اس چمار کے بیٹے سے بدتر ہے جو کام کرتا ہے۔تو یقینا اگلی نسل درست ہو سکتی ہے اور پھر وہ نسل اپنے سے اگلی نسل کو ، یہاں تک کہ یہ باتیں قومی کیریکٹر میں داخل ہو جائیں“۔تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ جلد اول ص 23) وقار عمل کی تحریک سے حضور کا اولین مقصد نکے پن اور بریکاری کی عادت کونو جوانوں سے دور کر کے ان کا قومی کیریکٹر بلند کرنا تھا۔خدام الاحمدیہ نے اس اجتماعی کام کی شکل کو وقار عمل کے نام سے موسوم کیا۔اگر چہ وقار عمل کا سلسلہ خدام الاحمدیہ کی بنیاد سے پہلے بھی جاری تھا لیکن حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات کی تعمیل میں وقار عمل کو عروج تک پہنچانے کا سہرا خدام الاحمدیہ کے سر ہے۔مجلس خدام الاحمدیہ کے سال 40-1939 ء سے ہر دو ماہ بعد اجتماعی و قار عمل کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔اور اس سال چھ مرتبہ اجتماعی وقار عمل کئے گئے اور ایک ہزار روپے سے زائد رقم کی بچت کی گئی۔ابتداء میں قادیان سے شروع ہونے والا کام ملک کے دیگر حصوں میں بھی مقبول ہوتا گیا۔وقار عمل کا مقصد وقار عمل کا حقیقی مقصد بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔” میں نے جماعت کو عموماً اور خدام کو خصوصاً اس امر کی ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں اور کسی کام کو بھی عار نہ سمجھیں۔معین اور واضح سکیم بنائیں: مشعل راه جلد اول ص 429 ) وقار عمل کے طریقہ کار کے حوالے سے حضور نے سب سے بنیادی اور اہم بات یہ بیان فرمائی کہ واضح پروگرام اور سکیم کے تحت وقار عمل کریں۔یونہی سوچے سمجھے بغیر نہ کریں۔حضور خطبہ جمعہ فرمودہ