خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 304
304 یکم نومبر 1939ء کو قادیان کا کوئی مرد اور 10 سال عمر کا بچہ ان پڑھ نہ رہے۔کوئی شخص بے ہنر نہ رہے اور ہر احمدی کوئی نہ کوئی پیشہ سیکھے۔آپ نے فرمایا:۔کتابی تعلیم کی نسبت عملی تعلیم کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اسی لئے میں نے تحریک جدید میں یہ بات بھی رکھی تھی کہ کوئی شخص بے ہنر نہ رہے ہر احمدی کو کوئ نہ کوئی پیشہ آنا چاہئے اور اس لئے میں صرف لفظی تعلیم پر بس نہیں کروں گا بلکہ کوشش کروں گا کہ ہر فرد کوئی نہ کوئی پیشہ جانتا ہو۔کوئی نجاری، کوئی لوہار کا کام، کوئی موچی کا کام، کوئی کپڑا بنا اور کوئی معماری وغیرہ جانتا ہو۔غرضیکہ ہر شخص کوئی نہ کوئی پیشہ اور فن جانتا ہو۔اسی طرح بعض اور باتیں جو عملی زندگی میں کام آنے والی ہیں وہ بھی سیکھنی چاہئیں میں انہیں کھیلیں نہیں بلکہ کام ہی سمجھتا ہوں مثلاً گھوڑے کی سواری، تیرنا، کشتی چلانا اور تیراندازی وغیرہ ہیں۔ہر احمدی کوشش کرے کہ ان میں سے کوئی نہ کوئی کام سیکھے اور ہو سکے تو سب سیکھے میری تجویز یہ ہے کہ پہلے تو تین ماہ (چھ ماہ) کے عرصہ میں سب کو کتابی تعلیم دے دی جائے اس کے بعد حرفہ کی طرف توجہ کی جائے اور جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ مجھے لکھیں کہ وہ کیا کیا پیشے جانتے ہیں اور کتنے لوگوں کو کتنے عرصہ میں سکھا سکتے ہیں اور کیا کیا انتظامات ضروری ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ سب لوگ کوئی نہ کوئی پیشہ سیکھ جائیں۔کوئی نجاری، کوئی معماری اور کوئی لوہار کا کام اور کوئی موچی کا کام یہ کام اتنے اتنے سیکھ لئے جائیں کہ گھر میں بطور شغل اختیار کئے جاسکیں اور اگر کوئی مہارت پیدا کرے تو وہ اختیار ( الفضل 29 اپریل 1939ء) بھی کر سکے۔نتجارت کرو: حضور نے 21 نومبر 1952ء کو خدام الاحمدیہ کو تلقین کی میں اپنے نو جوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تعلیم محض اس لئے حاصل نہ کریں کہ اس کے نتیجہ میں انہیں نوکریاں مل جائیں گی۔نوکریاں قوم کو کھلانے کا موجب نہیں ہوتیں بلکہ نوکر ملک کی دولت کو کھاتے ہیں۔اگر تم تجارتیں کرتے ہو، صنعتوں میں حصہ لیتے ہو، ایجادوں میں لگ جاتے ہو تو تم ملک کو کھلاتے ہو اور یہ صاف بات ہے کہ کھلانے والا کھانے والے سے بہترین ہوتا ہے۔نوکریاں بیشک ضروری ہیں لیکن یہ نہیں کہ ہم سب نوکریوں کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہم