خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 292
292 پیغام کو پہنچا ئیں اور جولوگ کبھی محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کے کلمات نکالتے رہے ہیں آج انہی کے مونہوں سے آپ کے لئے درود وسلام کا نذرانہ پیش کریں۔الله امام جماعت احمدیہ نے اس امر پر نہایت افسوس کا اظہار کیا کہ آج مسلمانوں کے مختلف فرقے نہایت معمولی معمولی مسائل پر باہم دست وگریباں ہیں حالانکہ سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات اور اسلام پر ہونے والے حملوں کا دفاع کس طرح کریں؟ آپ نے کہا کہ مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں اور مختلف فرقے یورپ اور دوسرے ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے مشن کھولیں تو یقیناً چند ہی سالوں کے اندر اندر یورپ کی کثیر آبادی محمد علی کے حلقہ غلامی میں آسکتی ہے۔آپ نے کہا کہ اگر آج مسلمانوں نے بھی اپنی مستیوں اور غفلتوں کو ترک نہ کیا اور اسلام کی اصل ضرورت کو سمجھ کر میدان میں نہ آئے تو وہ قیامت کے روز شافع محشر کو اپنا منہ نہ دکھا سکیں گے۔تقریر کے اختتام پر امام جماعت احمدیہ نے اکثر حاضرین کو شرف مصافحہ بخشا اور ان سے گفتگو فرمائی۔اس تقریب میں کئی سفارتی نمائندے، اعلیٰ سرکاری حکام، ممتاز شہری، اخباری نمائندے اور دیگر معزز افراد شریک تھے۔تاریخ احمدیت جلد 18 ص29) سیدنا حضرت مصلح موعود کی یہ اہم تقریر اتحاد بین المسلمین کی عظیم الشان تحریک تھی جسے پاکستان کے اردو اور انگریزی اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا۔