خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 291 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 291

291 اتحاد کی تحریک 1955ء میں حضور نے یورپ کا سفر فر مایا اور رجحانات کا جائزہ لے کر دعوت الی اللہ کی نئی سکیمیں شروع کیں۔لمصل یورپ کے بدلے ہوئے رجحانات کو دیکھ کر مسلمانوں کو متحد کرنے کا جذبہ اور زیادہ ابھر آیا اور حضور نے پاکستان میں پہنچتے ہی یہ آواز بلند فرمائی کہ یورپ کو مسلمان بنانے کے لئے سب مسلمانوں کو اکٹھا ہو جانا چاہئے۔اتحاد بین السلمین کی یہ تحریک حضور نے 21 ستمبر 1955ء کی ایک تقریب میں فرمائی جس کا اہتمام جماعت احمدیہ کراچی نے کیا تھا۔چنانچہ اخبار صلح کراچی نے لکھا۔امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے آج بیچ لگژری ہوٹل میں تقریر کرتے ہوئے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو نظر انداز کر کے اشاعت و تبلیغ اسلام کے اہم کام کے لئے متحد و منظم ہو جائیں اور ان اعتراضات کا علمی جواب دیں جو یورپ اور دوسرے ممالک کی غیر مسلم دنیا، اسلام اور محمد مصطفی ﷺ کے مقدس وجود پر کر رہی ہے۔امام جماعت احمد یہ اس دعوت عصرانہ میں یہ تقریر فرما رہے تھے جو آپ کے یورپ سے تشریف لانے پر آپ کے اعزاز میں آج کراچی کی جماعت احمدیہ کی طرف سے بیچ لگژری ہوٹل کے وسیع و شاداب لان میں دی گئی تھی۔امام جماعت احمدیہ نے قرآن مجید کی وہ آیت تلاوت فرمائی جس میں یہود اور عیسائیوں کو نظریہ توحید کی اشاعت و تبلیغ کے لئے تعاون کی دعوت دی گئی ہے۔امام جماعت احمدیہ نے نہایت دلچسپ طرز استدلال کے بعد فرمایا اگر اسلام اور محمد مصطفی علی کے بدترین دشمن یہودی اور عیسائیوں کو یہ دعوت دی جاسکتی ہے کہ وہ رسالت نبوی کے لئے نہیں بلکہ محض وحدانیت خداوندی کے لئے مجتمع ہو جائیں اور باہمی تعاون سے کام لیں تو کیا وجہ ہے کہ آج مسلمان اپنے اپنے باہمی اختلافات کو نظر انداز کر کے رسول اکرم ﷺ کی صداقت اور اسلام کی اشاعت کے لئے باہمی تعاون اور اشتراک سے کام نہ لے سکیں ؟ سفر یورپ کے تاثرات بیان فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا میرا مشاہدہ ہے کہ اب یورپ اسلام کی طرف بڑی تیزی سے مائل ہو رہا ہے اور وہاں کے لوگ اسلام اور محمد مصطفی ہے کی عظمت کا اعتراف کر رہے ہیں۔ضرورت ہے کہ ہم لوگ اپنی جانی و مالی قربانی سے وہاں اسلام کے