خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 290 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 290

290 مشہور اور ممتاز شخصیتوں کو جن میں بیشتر وزراء، پارلیمنٹ کے ممبر، کالجوں کے پروفیسر، مختلف وکلاء بیرسٹر اور سیاسی اور مذہبی لیڈر تھے ) خاص طور پر بذریعہ ڈاک بھجوایا گیا اور مجموعی طور پر ہر جگہ اس مضمون کا نہایت ہی اچھا اثر ہوا۔الفضل 17 ستمبر 1948 ء ص 2 کالم 1) یہی نہیں شام ریڈیو نے خاص اہتمام سے اس کا خلاصہ نشر کر کے اسے دنیائے عرب کے کونہ کونہ تک پہنچا دیا۔اخبار اليوم - الف باء الكفاح - الفيحاء - الاخبار - القبس - النصر - الیقظہ - صوت الاحرار النھضہ۔اور الاردن وغیرہ چوٹی کے عربی اخبارات میں شائع ہوا۔تیونس اور مراکش کی تحریک آزادی کی حمایت اور دعا تیونس اور مراکش کے جانباز مسلمان ایک عرصہ سے فرانس کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔مؤتمر عالم اسلامی نے فیصلہ کیا کہ 21 نومبر 1952ء کو دنیا بھر کے مسلمان یوم تیونس و مراکش منا ئیں۔اس فیصلہ کے مطابق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ہدایت پر جماعت احمدیہ نے بھی ان مظلوم اسلامی ممالک کے مطالبہ آزادی کی حمایت میں جلسے کئے اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کو کامیابی بخشے۔چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب وزیر خارجہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں ان ممالک کے حق میں پر زور آواز بلند کی جس کی تفصیل آپ کی خود نوشت سوانح تحدیث نعمت ( طبع اول 1971 ء صفحہ 569، 573) میں ملتی ہے۔1951ء میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران مراکش اور تیونس کے مسئلے کو ایجنڈا میں شامل کرنے کا سوال پیش ہوا تو آپ ہی کی تقریر اس موقع پر سب سے نمایاں تھی۔تقریر میں آپ نے امریکہ اور دیگر تمام ایسے ممالک کے طرز عمل کی مذمت کی جو ان مسائل کو شامل ایجنڈا کرنے کے خلاف تھے۔آپ نے جب دوران اجلاس فرمایا کہ اگر ان مسائل پر غور کرنے سے انکار کیا گیا تو مراکش میں قتل و خون ہوگا اور اس کی تمام تر ذمہ داری امریکی نمائندہ پر ہوگی تو امریکی مندوب کا رنگ زرد پڑ گیا۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کی دعاؤں، چوہدری صاحب کی کوششوں اور اہل تیونس و مراکش کی (ملت لاہور 22 جنوری 1954ءص7) قربانیوں کو شرف قبولیت بخشا اور یہ دونوں ملک 1956ء میں آزاد ہو گئے۔