خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 287 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 287

287 گیا۔چنانچہ 23 راکتو بر 1942ء کو برطانوی فوجوں نے العالمین پر جوابی یلغار شروع کی۔ادھر شمالی افریقہ کے مغربی حصے (یعنی مراکش اور الجزائر ) میں امریکہ نے اپنی فوجیں اتار دیں جو مغرب سے مشرق کو بڑھنے لگیں۔13 نومبر 1942 ء کو برطانوی فوجوں نے طبروق پر اور 20 نومبر تک بن غازی پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس مرحلہ پر غیرت اسلامی کا جو اظہار فرمایا اسے مخالفین احمدیت نے بھی بہت سراہا۔چنانچہ احراری اخبار ” زمزم نے اپنی 19 جولائی 1942ء کی اشاعت میں لکھا۔66 موجودہ حالات میں خلیفہ صاحب نے مصر اور حجاز مقدس کے لئے اسلامی غیرت کا جو ثبوت دیا ہے وہ یقیناً قابل قدر ہے اور انہوں نے اس غیرت کا اظہار کر کے مسلمانوں کے جذبات کی صحیح تر جمانی کی ہے۔66 نیز لکھا:۔زمزم معترف ہے کہ مقدس مقامات کی طرف سے خلیفہ صاحب کا اندیشہ بالکل حق بجانب الفضل 22 جولائی 1942 ء ص 1 کالم 4) فتنہ صیہونیت کے خلاف زبر دست اسلامی تحریک دنیا کی تمام بڑی بڑی اسلام دشمن طاقتیں ایک لمبے عرصہ سے فلسطین میں یہودیوں کو وسیع پیمانے پر آباد کرتی آرہی تھیں۔اس خوفناک سازش کا نتیجہ بالآخر 16 مئی 1948ء کو ظاہر ہو گیا جبکہ برطانیہ کی عملداری اور انتداب کے خاتمہ پر امریکہ، برطانیہ اور روس کی پشت پناہی میں ایک نام نہاد صیہونی حکومت قائم ہوگئی اور دنیائے اسلام کے سینہ میں گویا ایک زہر آلود خنجر پیوست کر دیا گیا۔اس نہایت نازک وقت میں جبکہ ملت اسلامیہ زندگی اور موت کی کشمکش سے دوچار تھی۔حضرت مصلح موعودؓ نے عالم اسلام کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے ایک بار پھر پوری قوت سے جھنجوڑا۔انہیں مغربی طاقتوں اور صیہونی حکومت کے در پر دہ تباہ کن عزائم سے قبل از وقت آگاہ فرمایا اور اس فتنہ عظمی کے منتظم مقابلہ کے لئے نہایت مفید تجاویز پرمشتمل ایک قابل عمل دفاعی منصو بہ منصوبہ پیش کیا۔