خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 268
268 باہر کے بعض لوگوں نے اس موقعہ پر قادیان والوں کی مدد کی ہے اور انہوں نے میری ہدایت پر نہایت اخلاص سے عمل کیا ہے۔چنانچہ میں اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں جس کی کوئی اور نظیر مجھے ساری جماعت میں نہیں ملی اور وہ چوہدری عبداللہ خان صاحب دانہ زید کا والوں کی مثال ہے۔انہوں نے گزشتہ سال شروع میں ہی اپنی ضرورت سے زائد گندم محفوظ کر لی تا کہ اگر قادیان والوں کو دوران سال میں ضرورت پیش آجائے تو وہ دے سکیں۔چنانچہ اس کے بعد جب گندم کی قیمتیں بہت زیادہ چڑھ رہی تھیں انہوں نے گورنمنٹ کے مقرر کردہ ریٹ پر اڑھائی سو من غلہ ہمیں مہیا کر دیا۔حالانکہ وہ اگر چاہتے تو اس سے پہلے چھ بلکہ سات روپے پر منڈی میں اسے فروخت کر سکتے تھے۔مگر انہوں نے غلے کو رو کے رکھا اور جلسہ سالانہ پر مجھ سے کہا کہ ہم نے آج تک اپنے غلہ کو اس لئے روک رکھا ہے کہ اگر قادیان والوں کو ضرورت ہو تو ہم انہیں دے دیں۔تم خود سوچ لو کہ ایک زمیندار کی یہ کس قدر قربانی ہے کہ وہ اپنے غلہ کو اچھے داموں پر فروخت نہیں کرتا محض اس لئے کہ اگر قادیان والوں کو ضرورت پیش آگئی تو ان کا کیا انتظام ہوگا۔غرض یہ ایک ایسے اخلاص کی مثال ہے جس کے مقابلہ میں اس معاملہ میں مجھے کوئی دوسری مثال اپنی جماعت میں سے نہیں ملی گوایسی جماعت میں جو خدا تعالیٰ کی جماعت ہو اس قسم کی سینکڑوں مثالیں ہونی چاہئیں۔بعض جماعتوں نے بے شک اچھا نمونہ دکھایا۔چنانچہ قادیان میں جب غلہ کی سخت قلت ہو گئی تو سرگودھا کی جماعت نے تمام جماعتوں سے بڑھ کر غلہ مہیا کر کے دیا۔مگر یہ ایک جماعت کی مثال ہے اور چوہدری عبداللہ خان صاحب کی مثال ایک فرد کی ہے۔سرگودھا کی جماعت نے اس موقعہ پر ہمیں 822 من غلہ مہیا کر کے دیا۔اسی طرح شیخو پورہ کے ضلع والوں نے تقریباً 80 من غلہ دیا۔بعض اور دوستوں نے بھی اپنے طور پر بعض واقف غیر احمدیوں سے لے کر بھجوایا۔ضلع منٹگمری کی طرف سے 440 من غلہ پہنچا اور اس طرح ان سب جماعتوں نے اپنے اپنے درجہ کے مطابق اخلاص اور محبت کا ثبوت دیا ہے۔بہر حال ان دنوں میں اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے قادیان والوں کو جو سہولتیں میسر آسکتی تھیں وہ باہر کی جماعتوں کی قربانی کی وجہ سے میسر آگئیں۔بیرونی شہروں میں ان دنوں غلہ کی قلت کی وجہ سے لوگوں کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔چنانچہ جو لوگ اخبارات پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ لوگوں کو آٹے کے لئے کس قدر تکلیف اٹھانی پڑی۔انقلاب اخبار میں بھی کئی دفعہ یہ بات چھپی ہے کہ تھوڑے سے آٹے کے لئے لوگوں کو کئی کئی گھنٹے