خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 264
264 کام لے تو چونکہ ہر ایک احمدی حصہ لے گا ، ہم من حیث الجماعت حصہ لیں گے اور دوسرے من حیث الافراد اس لئے اس تحریک میں ضرور حصہ لیا جائے تا جو احمدی مبتلائے مصائب ہیں ان کی امداد کی جائے اور دوسرے مستحقین کو بھی خدا کی صفت رحمانیت کے ماتحت امداد دی جا سکے۔پس قادیان کے دوست بھی اور باہر کے بھی جن کو اخبار کے ذریعہ یہ خطبہ پہنچ جائے گا تھوڑا بہت جس قدر بھی ہو سکے اس تحریک میں جو ناظر صاحب بیت المال کریں گے ، حصہ لیں۔بعض لوگوں کو پہلے ہی اس کا احساس ہے۔چنانچہ ینگ مینز ایسوسی ایشن قادیان نے قبل اس کے کہ میری طرف سے کوئی تحریک ہو، اگر چہ میرے دل میں لی تھی۔اپنی طرف سے 10 روپے کی رقم بھیج دی ہے۔الفضل 8 فروری 1934 ء۔خطبات محمود جلد 15 ص 42) اس کے علاوہ مرکز کی طرف سے مولانا غلام احمد صاحب فاضل بدوملہی اظہار ہمدردی اور تفصیلات مہیا کرنے کے لئے بہار بھجوائے گئے اور مئی 1934ء میں تیرہ سو روپیہ کی رقم حضرت مولانا عبد الماجد صاحب امیر جماعت احمد یہ بھاگلپور کوروانہ کی گئی۔علاوہ ازیں ایک ہزار روپیہ ریلیف فنڈ میں دیا گیا۔( تاریخ احمدیت جلد 6 ص 176 ) قادیان کے غربا کے لئے غلہ کی تحریک 1942ء کے شروع میں ہندوستان کے اندر خطر ناک قحط رونما ہو گیا اور غلہ کی سخت قلت ہوگئی۔اس ہولناک قحط کے آثار ماہ فروری 1942ء میں شروع ہو گئے تھے لیکن حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جنہیں خدائی بشارتوں میں ” یوسف کے نام سے بھی پکارا گیا تھا سالانہ جلسہ 1941ء پر احباب جماعت کو توجہ دلائی کہ انہیں غلہ وغیرہ کا انتظام کرنا چاہئے اور اعلان فرمایا کہ جو دوست غلہ خرید سکتے ہیں وہ فوراً خرید لیں۔بعض نے خریدا مگر بعض نے توجہ نہ دی کہ ہمارے پاس پیسے ہیں جب چاہیں گے لے لیں گے۔مگر جب آنا وغیرہ ملنا بند ہوا اور سیاہ دانوں کی گندم ڈپو میں دی جانے لگی تو ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔اس کے بعد جب فصل نکلی تو حضور نے پھر ارشاد فرمایا کہ دوست غلہ جمع کر لیں اور ساتھ ہی زمیندار دوستوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ غلہ زیادہ پیدا کریں اور اسے حتی الوسع جمع رکھیں۔اس ضمن میں نے 22 مئی 1942ء کو ملک کی سب احمدی جماعتوں کو نصیحت فرمائی کہ وہ ہر جگہ اپنے غریب