خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 11 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 11

11 تعلیم القرآن کے متعلق تحریکات قرآن کریم حضرت خلیفہ لمسح الاول کے دل کی غذا تھا۔اس کے علوم ومعارف کی اشاعت کے لئے آپ ساری زندگی کوشاں رہے۔ایک بار حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے سوال کیا کہ آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے تو فرمایا: مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ قرآن مجید عملی طور پر کل دنیا کا دستور العمل ہو۔(الحکم 7 جولائی 1911 ء ص 2 کالم (3) پھر فرمایا: قرآن کو مضبوط پکڑو۔قرآن بہت پڑھو اور اس پر عمل کرو۔(الحکم 21 جنوری 1911ء ص 8 کالم (3) تعلیم القرآن کی اس تحریک پر سب سے زیادہ اور عارفانہ عمل آپ ہی کا تھا۔آپ خلافت سے پہلے بھی مسلسل قرآن کا درس دیتے تھے۔منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد باوجود بے پناہ ذمہ داریوں کے قرآن کو آپ کی مصروفیات میں اولیت حاصل رہی اور قرآن کا درس دینے کے لئے ہمیشہ جوان اور مستعد رہے۔فرماتے تھے: قرآن شریف کے ساتھ مجھے کو اس قدر محبت ہے کہ بعض وقت تو حروف کے گول گول دوائر مجھے انف محبوب نظر آتے ہیں اور میرے منہ سے قرآن کا ایک دریا رواں ہوتا ہے اور میرے سینہ میں قرآن کا ایک باغ لگا ہوا ہے۔بعض وقت تو میں حیران ہو جاتا ہوں کہ کس طرح اس کے معارف بیان (بدر 19 اکتوبر 1911ءص 3 کالم2) کروں۔درس قرآن اور عربی سیکھنے کی تحریک 1908ء میں اپنی خلافت کے پہلے جلسہ سالانہ پر دوران تقریر آپ نے فرمایا کہ کرزن گزٹ (دہلی) نے حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ اب مرزائیوں میں کیا رہ گیا ہے ان کا سرکٹ چکا ہے ایک شخص جو ان کا امام بنا ہے اس سے تو کچھ ہوگا نہیں ہاں یہ ہے کہ تمہیں کسی مسجد میں قرآن سنایا کرے۔سوخدا کرے یہی ہو میں تمہیں قرآن ہی سنایا کروں۔اس کے بعد آپ نے قرآن مجید کی بعض آیات پڑھ کر ان کی لطیف تفسیر فرمائی اور آخر میں عربی