خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 7
7 قرآن کریم میں حکم ہے کہ ہر قسم کے کاروبار کو چھوڑ کر جمعہ کی نماز میں حاضر ہو جاؤ۔ہندوستان میں اسلامی سلطنت میں جمعہ کی تعطیل ہوتی تھی مگر انگریزوں کی آمد کے بعد اتوار کی تعطیل شروع ہو گئی اور مسلمان اس مقدس فریضہ کی ادائیگی سے محروم رہ گئے۔سید نا حضرت مسیح موعود نے یکم جنوری 1896ء کو مسلمانان ہند کی طرف سے وائسرائے ہند کے نام اشتہار شائع کیا جس میں حکومت سے درخواست کی گئی کہ وہ مسلمانوں کے لئے جمعہ کی تعطیل کا اعلان مگر مولوی محمد حسین بٹالوی کی مخالفت کی وجہ سے یہ تحریک پیش رفت نہ کرسکی۔چونکہ گورنمنٹ برطانیہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ 12 دسمبر 1911 ء کو ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں شاہنشاہ ہند جارج پنجم کی رسم تاج پوشی ادا کی جائے۔اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر ایک میموریل تیار کیا۔جس میں وائسرائے ہند کی معرفت شاہ جارج پنجم سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ مسلمانوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے دو گھنٹہ کی رخصت عنایت فرمائی جایا کرے۔اس میموریل کا خلاصہ حضور کے الفاظ میں درج ذیل ہے۔جمعہ کا دن اسلام میں ایک نہایت مبارک دن ہے اور یہ مسلمانوں کی ایک عید ہے بلکہ اس عید کی فرضیت پر جس قدر زور اسلام میں دیا گیا ہے۔ان دو بڑی عیدوں پر بھی زور نہیں دیا گیا۔جن کو سب خاص و عام جانتے ہیں۔بلکہ یہ عید نہ صرف عید ہے بلکہ اس دن کے لئے قرآن کریم میں یہ خاص طور پر حکم دیا گیا ہے کہ جب جمعہ کی اذان ہو جائے تو ہر قسم کے کاروبار کو چھوڑ کر مسجد میں جمع ہو جاؤ۔جیسا کہ فرمایا: يايها الذين آمنوا اذا نودي للصلوة من يوم الجمعة فاسعوا الى ذكر الله وذروا البيع یہی وجہ ہے کہ جب سے اسلام ظاہر ہوا اسلامی ممالک میں جمعہ کی تعطیل منائی جاتی رہی ہے اور خود اس ملک ہندوستان میں برابر کئی سو سال تک جمعہ تعطیل کا دن رہا ہے۔کیونکہ آیت مذکورہ بالا کی رو سے یہ گنجائش نہیں دی گئی کہ جمعہ کی نماز کو معمولی نمازوں کی طرح علیحدہ بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔بلکہ جماعت میں حاضر ہونا اور خطبہ سننا اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اس کے لئے ضروری قرار دیئے گئے ہیں۔