خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 208
208 تحریکات کو دہرایا کرتے تھے اور سب سے زیادہ الفضل کی اشاعت کی تحریک فرماتے تھے۔ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا:۔آج لوگوں کے نزدیک الفضل کوئی قیمتی چیز نہیں مگر وہ دن آرہے ہیں اور وہ زمانہ آنے والا ہے ب الفضل کی ایک جلد کی قیمت کئی ہزار روپیہ ہوگی لیکن کوتاہ بین نگاہوں سے یہ بات ابھی پوشیدہ (الفضل 28 مارچ 1946ء) قیام پاکستان کے بعد روز نامہ الفضل لاہور سے شائع ہوتا تھا۔دسمبر 1954ء میں الفضل لاہور بوہ منتقل کر دیا گیا اور 31 دسمبر 1954 ء سے ضیاء الاسلام پریس ربوہ سے چھپنے لگا۔اس وقت پہلے پرچہ کے لئے حضرت مصلح موعودؓ نے جو تحریری پیغام ارسال فرمایاوہ درج ذیل ہے۔آج ربوہ سے اخبار شائع ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا ربوہ سے نکلنا مبارک کرے اور جب تک یہاں سے نکلنا مقدر ہے اس کو اپنے صحیح فرائض ادا کرنے کی توفیق دے۔اخبار قوم کی زندگی کی علامت ہوتا ہے۔جو قوم زندہ رہنا چاہتی ہے اسے اخبار کو زندہ رکھنا چاہئے اور اپنے اخبار کے مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ آپ کو ان امور پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔روزنامه الفضل 31 دسمبر 1954 ء ) اخباری زندگی مضبوط کریں سیدنا حضرت مصلح موعودؓ تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1937ء میں فرماتے ہیں:۔ایک طبقہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو اپنے آپ کو ارسطو اور افلاطون کا بھائی سمجھتے ہیں انہیں تو فیق بھی ہوتی ہے اور اخبار کی خریداری کی استطاعت بھی رکھتے ہیں مگر جب کہا جاتا ہے کہ آپ ” الفضل کیوں نہیں خریدتے تو کہہ دیتے ہیں اس میں کوئی ایسے مضامین نہیں ہوتے جو پڑھنے کے قابل ہوں۔ان کے نزدیک دوسرے اخبارات میں ایسے مضامین ہوتے ہیں جو پڑھے جانے کے قابل ہوں مگر خدا تعالیٰ کی باتیں ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتیں کہ وہ انہیں سنیں اور ان کے پڑھنے کیلئے اخبار خریدیں ایسے لوگ یقینا وہمی ہوتے ہیں اور ان میں قوت موازنہ نہیں پائی جاتی۔میرے سامنے جب کوئی کہتا ہے کہ ”الفضل میں کوئی ایسی بات نہیں ہوتی جس کی وجہ سے اسے