خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 197
197 تحریک سے خدا تعالیٰ نے کتنا عظیم الشان کام لیا ہے۔اگر عام چندہ کے ذریعہ اس وقت جماعت میں حفاظت مرکز کے لئے تحریک کی جاتی تو میں سمجھتا ہوں کہ لاکھ دولاکھ روپیہ کا اکٹھا ہونا بھی بہت مشکل ہوتا مگر چونکہ آج سے تین سال پہلے وقف جائیداد کی تحریک کے ذریعہ ایک بنیاد قائم ہو چکی تھی۔اس لئے وہ لوگ جنہوں نے اس تحریک میں اس وقت حصہ لیا تھا وہ اس وقت مینار کے طور پر ساری جماعت کے سامنے آگئے اور انہوں نے اپنے عملی نمونہ سے جماعت کو بتایا کہ جو کام ہم کر سکتے ہیں۔وہ تم کیوں نہیں کر سکتے۔چنانچہ جب ان کی قربانی پیش کی گئی تو ہزاروں ہزار لوگ ایسے نکل آئے۔جنہوں نے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی جائیدادیں وقف کر دیں۔پس جس طرح وہ تحریک جدید بنیاد تھی بعض اور عظیم الشان کاموں کے لئے اسی طرح حفاظت مرکز کے متعلق جو تحریک چندہ کے لئے کی گئی ہے یہ بھی آئندہ بعض عظیم الشان کاموں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی اور جس وقت یہ تحریک اپنی تکمیل کو پہنچے گی اس وقت مالی لحاظ سے جماعت کی قربانیاں اپنے کمال کو پہنچ جائیں گی در حقیقت جانی قربانی کا مطالبہ وقف زندگی کے ذریعے کیا جارہا ہے اور مالی قربانی کے ایک بہت ہی بلند مقام پر کھڑا کیا جا رہا ہے پھر شاید وہ وقت بھی آجائے کہ سلسلہ ہر شخص سے اس کی جان کا بھی مطالبہ کرے اور جماعت میں یہ تحریک کی جائے کہ ہر شخص نے جس طرح اپنی جائیداد خدا تعالیٰ کے لئے وقف کی ہوئی ہے اسی طرح وہ اپنی زندگی بھی خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دے تاکہ ضرورت کے وقت اس سے کام لیا جا سکے۔الفضل 22 مئی 1947 ء ) منارة مسیح بال کے لئے تحریک یکم اپریل 1945ء کو مجلس مشاورت کا تیسرا دن تھا۔اس روز حضرت مرزا شریف احمد صاحب ناظر دعوت و تبلیغ نے ایجنڈا کی تجویز نمبر 5 سے متعلق سب کمیٹی کی حسب ذیل سفارش پیش فرمائی کہ :۔وقت آگیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کے ماتحت نظارت دعوت و تبلیغ کے زیر اہتمام قادیان میں ایک مذہبی کا نفرنس کی جائے۔تفصیلی قواعد بنانے کے لئے ایک سب کمیٹی بنادی جائے۔اس کا نفرنس کے اخراجات کے لئے مبلغ دو ہزار روپیہ اس بجٹ میں رکھا جائے۔سب کمیٹی کی بحث کے دوران میں حضرت مسیح موعود کے یہ الفاظ مندرجہ اشتہار خطبہ الہامیہ پڑھ کر سنائے گئے۔