خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 160
160 مسجد سے دوگنی ہو جائے گی۔مسجد کے لئے یہ جگہ سالہا سال سے خریدی جا چکی تھی۔اب انشاء اللہ اس مسجد کو بڑھا دیا جائے گا۔میں اپنے قلب میں ایسا محسوس کرتا ہوں جیسے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ انکشاف ہوتا ہے۔گوکسی الہام یا رویا کی بناء پر میں یہ نہیں کہہ رہا۔مگر میرا قلب یہ محسوس کرتا ہے کہ ہر شخص جو یہاں نماز پڑھنے کے لئے آتا ہے وہ سلسلہ کی ترقی کے لئے ایک باب کھولتا ہے“۔(الفضل 16 اپریل 1944 ء ) اس فیصلہ کے مطابق بہت جلد مسجد مبارک کی توسیع عمل میں آئی جس سے مسجد کی عمارت نہایت شاندار اور پہلے کی نسبت دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی۔2 دسمبر 1944ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعود نے نئے محراب میں نماز ظہر پڑھا کر اس کا افتتاح فرمایا۔( الفضل 4 دسمبر 1944ء) اس حصہ کی توسیع کے لئے روپیہ حضرت سیدنا اصلح الموعود کی ذاتی اپیل پر دوستوں نے پُر جوش طوعی چندوں کی صورت میں پیش کیا جس میں ایک معقول حصہ خود حضور کے ذاتی چندہ کا تھا۔حضور نے فرمایا:۔کل عصر کے وقت میں نے اس کا ذکر کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں مسجد مبارک کی توسیع کرنی چاہئے اس کا اثر یہ ہوا کہ شام کی نماز کے بعد جب میں بیٹھا تو میں نے بعض ایسے دوستوں کے نام لکھوانا شروع کر دیا۔جنہوں نے اس غرض کے لئے مجھے چندہ دیا ہوا تھا۔اس پر دوسرے دوستوں نے بھی اس وقت چندہ دینا شروع کر دیا اور بعض نے وعدے لکھوانے شروع کر دیئے اور اس اخلاص سے چندے دیئے اور وعدے لکھوانے شروع کئے کہ نماز مغرب میں شامل ہونے والے نمازیوں سے ہی اندازہ کی رقم پوری ہوگئی۔ہمارا اندازہ مسجد کی زیادتی کے خرچ کا 10 ہزار روپیہ کا تھا۔مگر اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے پندرہ ہزار روپے کے وعدے ہو چکے ہیں ( جو آج ہفتہ کی شام تک سترہ ہزار سے زائد کے وعدے ہو چکے ہیں) اور ان میں سے سات ہزار روپیہ تو نقد وصول ہو چکا ہے۔باقی روپیہ بھی امید ہے دو چار دنوں میں دوستوں کی طرف سے مل جائے گا۔( آج ہفتہ کی شام تک دس ہزار روپیہ سے اوپر نقد آچکا ہے) یہ کیسا شاندار اخلاص کا نمونہ ہے جو ہماری جماعت نے دکھایا۔دنیا میں آج کون سی جماعت ہے جو دین کی خدمت کے لئے ایسا نمونہ دکھا رہی ہے۔(الفضل 14 مارچ 1944 ء )