خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 110 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 110

110 وائسرائے الیگل لاج (دہلی) میں وائسرائے ہند لارڈارون کو نہایت خوبصورت اور خوشنما طشتری بطور تحفہ پیش کی۔اس کتاب میں حضور نے لارڈارون کو سلسلہ احمدیہ کی نسبت گزشتہ نوشتے بتائے اور پھر جماعت احمدیہ کے بائیس بنیادی عقائد بیان کرنے کے بعد خاتمہ میں بتایا کہ بے شک یہ سلسلہ اس وقت کمزور ہے لیکن سب الہی سلسلے شروع میں کمزور ہوتے ہیں، شام، فلسطین اور روم کے شہروں میں پھرنے والے حواریوں کو کون کہ سکتا تھا کہ یہ کسی وقت دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دیں گے۔وہی حال ہمارے سلسلہ کا ہے اس کی بنیادیں خدا تعالیٰ نے رکھی ہیں اور دنیا کی روکیں اس کی شان کو کمزور نہیں بلکہ دو بالا کرتی ہیں کیونکہ غیر معمولی مشکلات پر غالب آنا اور غیر معمولی کمزوری کے باوجود ترقی کرنا الہی مد داور الہی نصرت کا نشان ہوتا ہے اور بصیرت رکھنے والوں کے ایمان کی زیادتی کا موجب“۔لا رڈارون نے اس قیمتی تحفہ پر بہت خوشی کا اظہار کرنے اور اس کا زبانی شکر یہ ادا کرنے کے علاوہ حضور کے نام ایک تحریری شکریہ بھی ارسال کیا جو تحفہ لارڈارون اردو ایڈیشن کے آخر میں طبع شدہ ہے۔جماعت احمدیہ سے تبلیغ کے متعلق عہد مجلس مشاورت 1927ء کے دوران جماعت کے سامنے کئی اہم امور زیر بحث آئے جن میں ایک بہت بڑا مسئلہ اچھوت اقوام میں تبلیغ تھا۔جس پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جماعت کے نمائندوں سے تبلیغ کی مہم جاری رکھنے کا عہد لیا کہ اگر ہمارے جسموں کا ذرہ ذرہ بھی اشاعت میں لگ جائے گا تو ہم تبلیغ بند نہ کریں گے۔نیز پر شوکت الفاظ میں فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ہمیں دلوں کی عمارتیں بنانے کے لئے خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے۔ہمیں اینٹ پتھر کی عمارتوں سے کیا غرض۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ آئندہ لوگ آئیں گے جو سنگ مرمر کی عمارتیں بنائیں گے ان میں سونے کا کام کریں گے۔یہ کام ان کے لئے رہنے دو۔آؤ ہم دلوں کی عمارتیں بنائیں۔پس اگر ہمیں ان عمارتوں کو فروخت کرنا پڑے، ان زمینوں کو بیچ ڈالنا پڑے تو کوئی پرواہ نہیں۔یہ سارا نظام اسی وقت تک ہے جب تک ہم اصل فرض اور مقصد کو پورا کر سکتے ہیں جب ہم سمجھیں کہ اسلام کی عزت اس کی محتاج ہے تو ہمیں ان کے بیچ ڈالنے میں ایک