خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 81
81 تعلیم یافتہ خواتین بھی جلسوں میں شریک ہوئیں اور دنیا کے سب سے بڑے محسن سب سے بڑے پاکباز اور سب سے بڑے ہمدرد کے متعلق اپنی عقیدت اور اخلاص کا اظہار کیا۔یہ ایسا روح پرور نظارہ تھا جو اس سے قبل کبھی دیکھنے میں نہیں آیا اور جس کی یاد دیکھنے والوں کے ذہن میں آج بھی تازہ ہے۔الفضل 26 جولائی 1928 ء ص 4,3 ہندوستان کے علاوہ سماٹرا، آسٹریلیا ، سیلون، ماریشس، ایران ، عراق ، عرب، دمشق، حیفا ( فلسطین) گولڈ کوسٹ (غانا)، نائیجیریا، جہ، ممباسہ (مشرقی افریقہ) اور لندن میں بھی سیرت النبی کے جلسے رپورٹ مجلس مشاورت 1929ء ص 206 ) ہوئے۔اس طرح خدا کے فضل سے عالمگیر پلیٹ فارم سے آنحضرت ﷺ کی شان میں محبت و عقیدت کے ترانے گائے گئے اور سپین کے مشہور صوفی حضرت محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی پیشگوئی کا ایک پہلو کہ آنحضرت کے مقام محمود کا ظہور حضرت امام مہدی کے ذریعہ سے ہوگا۔امام مہدی کے خلیفہ برحق کے زمانہ میں (جس کا نام خدائے ذوالعرش نے محمود رکھا تھا ) پوری ہوگئی۔مجالس سیرت النبی کی کامیابی ایسے شاندار رنگ میں ہوئی کہ بڑے بڑے لیڈر دنگ رہ گئے اور اخباروں نے اس پر بڑے عمدہ تبصرے شائع کئے اور اس کی غیر معمولی کامیابی پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو مبارکباد دی۔یوم پیشوایان مذاہب کی بنیاد حضرت خلیفہ المسی الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ن دنیا میں عموماً اور ہندوستان میں خصوصا مذ ہی نفرت و حقارت اور کشیدگی کم کرنے کے لئے 1928ء میں سیرت النبی کے مبارک جلسوں کی بنیاد رکھی جو عوامی فضا کو درست کرنے اور مسلم و غیر مسلم حلقوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بہت ممد و معاون ثابت ہوئی۔اس سلسلہ میں حضور نے دوسرا قدم قیام امن و اتحاد عالم کے لئے یہ اٹھایا کہ اپریل 1939ء کی جماعتی مجلس شوریٰ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک دیرینہ خواہش کے مد نظر آئندہ کے لئے پیشوایان مذاہب کی سیرت بیان کرنے کے لئے بھی سال میں ایک دن مقر ر فرما دیا اور ہدایت فرمائی کہ اس دن تمام لوگوں کو دعوت دی جائے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں یا اپنے بانی مذہب