خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 80 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 80

80 66 چهارم: غیر مسلموں کو سیرت رسول کے موضوع سے وابستگی کا شوق پیدا کرنے کے لئے یہ اعلان کیا گیا کہ جو غیر مسلم اصحاب ان جلسوں میں تقریریں کرنے کی تیاری کریں گے اور اپنے مضامین ارسال کریں گے ان میں سے اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والوں کو علی الترتیب سو، پچاس اور پچیس روپے کے نقد انعامات بھی دیئے جائیں گے۔(الفضل 5 جون 1928 ء ص 1) پنجم : حضور کے سامنے چونکہ میلاد النبی “ کے معروف رسمی ، بے اثر اور محدود جلسوں کی مخصوص اغراض کی بجائے ”سیرت النبی “ کے خالص علمی اور ہمہ گیر جلسوں کا تصور تھا اس لئے آپ نے ان کے انعقاد کے لئے 12 ربیع الاول کے دن کی بجائے ( جو عموماً ولادت نبوی کی تاریخ تسلیم کی جاتی ہے ) دوسرے دنوں کو زیادہ مناسب قرار دیا۔چنانچہ 1928ء میں آپ نے یکم محرم 1347ھ بمطابق 20 جون کو یوم سیرت منانے کا اعلان کیا۔جسے شیعہ فرقہ کے مسلمانوں کی بآسانی شمولیت کے پیش نظر 17 جون میں تبدیل کر دیا۔(الفضل 4 مئی 1928ء۔خطبات محمودجلد 11ص364) سیرت النبی کے کامیاب جلسوں کا روح پرور نظارہ: اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت اس عظیم الشان مہم کے پیچھے کام کر رہی تھی اور ہندوستان کے عرض وطول میں 17 جون کو نہایت تزک واحتشام سے یوم سیرت النبی منایا گیا اور نہایت شاندار جلسے منعقد کئے گئے اور ایک ہی سٹیج پر ہر فرقہ کے مسلمانوں نے سیرت رسول پر اپنے دلی جذبات عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے تقریریں کیں۔چنانچہ متعدد مقامی احمدیوں نے لیکچر دیے مرکز سے قریباً پچاس کے قریب لیکچرار ملک کے مختلف جلسوں میں شامل ہوئے۔دوسرے مسلمانوں میں سے تقریر کرنے والوں یا نظم پڑھنے والوں یا صدارت کرنے والوں میں کئی نمایاں شخصیتیں شامل تھیں۔مسلمانوں کے علاوہ ہندو، سکھ، عیسائی، جینی اصحاب نے بھی آنحضرت ﷺ کی پاکیزہ سیرت بیش بہا قربانیوں اور عدیم النظیر احسانات کا ذکر کیا اور نہ صرف ان جلسوں میں بخوشی شامل ہوئے بلکہ کئی مقامات پر انہوں نے ان کے انعقاد میں بڑی مدد بھی دی۔جلسہ گاہ کے لئے اپنے مکانات دیئے، ضروری سامان مہیا کیا ، سامعین کی شربت وغیرہ سے خدمت کی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بڑے بڑے معزز اور مشہور لیڈروں نے جلسوں میں شامل ہو کر تقریریں کیں۔سینکڑوں غیر مسلم معززین اور غیر مسلم