خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 78 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 78

راست تو ہین انبیاء کو جرم نہیں قرار دیتا۔78 2۔اس قانون کے تحت صرف حکومت ہی مقدمہ چلا سکتی ہے۔3۔اس قانون میں یہ اصلاح کرنا ضروری ہے کہ جوابی کتاب لکھنے والے پر اس وقت تک قانونی کارروائی نہ کی جائے جب تک کہ اصل مؤلف پر مقدمہ نہ چلایا جائے بشرطیکہ اس نے گندہ دہنی سے کام لیا ہو۔4۔یہ قانون صوبائی ہے لہذا اصل قانون یہ ہونا چاہئے کہ جب ایک گندی کتاب کو ایک صوبائی حکومت ضبط کر لے تو باقی تمام صوبائی حکومتیں بھی قانو نا پابند ہوں کہ وہ اپنے صوبوں میں اس کتاب کی طباعت یا اشاعت بند کر دیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ اس قانون پر عملدرآمد گورنمنٹ آف انڈیا کے اختیار میں ہو جو کسی صوبہ کی حکومت کے توجہ دلانے پر ایک عام حکم جاری کر دے۔جس کا سب صوبوں پر اثر ہو۔الفضل 19 را گست 1927 میں 7,6 ) (انوار العلوم جلد 9 ص 633 تا 635) سیرت النبی کے جلسوں کی تحریک 1928ء کا نہایت مہتم بالشان اور تاریخ عالم میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے لائق واقعہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ہاتھوں سیرت النبی کے جلسوں کی بنیاد ہے جس نے برصغیر ہندو پاک کی مذہبی تاریخ پر خصوصاً اور دنیا بھر میں عموماً بہت گہرا اثر ڈالا ہے اور جواب ایک عالمگیر تحریک کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔حضور نے فرمایا:۔لوگوں کو آپ پر ( یعنی آنحضرت ﷺ پر۔ناقل ) حملہ کرنے کی جرات اسی لئے ہوتی ہے کہ وہ آپ کی زندگی کے صحیح حالات سے ناواقف ہیں۔یا اسی لئے کہ وہ سمجھتے ہیں دوسرے لوگ ناواقف ہیں اور اس کا ایک ہی علاج ہے جو یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی سوانح پر اس کثرت سے اور اس قدر زور کے ساتھ لیکچر دئیے جائیں کہ ہندوستان کا بچہ بچہ آپ کے حالات زندگی اور آپ کی پاکیزگی سے آگاہ ہو جائے اور کسی کو آپ کے متعلق زبان درازی کرنے کی جرات نہ رہے جب کوئی حملہ کرتا ہے تو یہی سمجھ کر کہ دفاع کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔واقف کے سامنے اس لئے کوئی حملہ نہیں کرتا کہ وہ دفاع کر