خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 77 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 77

77 نے جو اس وقت وائسرائے تھے اس تجویز کی طرف مناسب توجہ نہ کی۔اس کے بعد سب سے اول 1914ء میں میں نے سرا ڈوائر کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ گورنمنٹ کا قانون مذہبی فتن کے دور کرنے کے لئے کافی نہیں اور جب تک اس کو مکمل نہ کیا جائے ملک میں امن قائم نہ ہوگا۔انہوں نے مجھے اس بارہ میں مشورہ کرنے کے لئے بلایا لیکن جس تاریخ کو ملاقات کا وقت تھا اس سے دو دن پہلے استاذی المکرم حضرت مولوی نورالدین صاحب امام جماعت احمد یہ فوت ہو گئے اور دوسرے دن مجھے امام جماعت منتخب کیا گیا۔چنانچہ وہ جماعت کے لئے ایک سخت فتنہ کا وقت تھا۔میں سراڈ وائر سے مل نہ سکا اور بات یونہی رہ گئی۔اس کے بعد 1923ء میں میں میںکلیکن سابق گورنر پنجاب سے ملا اور انہیں اس قانون کے نقصوں کی طرف توجہ دلائی مگر باوجود اس کے کہ میں نے انہیں کہا تھا کہ آپ گورنمنٹ آف انڈیا کو توجہ دلائیں انہوں نے یہ معذرت کر دی کہ اس امر کا تعلق گورنمنٹ آف انڈیا سے ہے اس لئے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔اس کے بعد میں نے پچھلے سال ہز ایکسیلینسی گورنر جنرل کو ایک طویل خط میں ہندوستان میں قیام امن کے متعلق تجاویز بتاتے ہوئے اس قانون کی طرف بھی توجہ دلائی لیکن افسوس کہ انہوں نے محض شکریہ تک ہی جواب کو محدود رکھا اور باوجود وعدہ کے کہ وہ ان تجاویز پر غور کریں گے غور نہیں کیا۔میرے اس خط کا انگریزی ترجمہ چھ ہزار کے قریب شائع کیا گیا اور تمام حکام اعلیٰ سیاسی لیڈروں اخباروں پارلیمنٹ کے ممبروں اور دوسرے سر بر آوردہ لوگوں کو جاچکا ہے اور کلکتہ کے مشہور اخبار ” بنگالی نے جو ایک متعصب اخبار ہے لکھا ہے کہ اس میں پیش کردہ بعض تجاویز پر ہندو مسلم سمجھوتے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔سرمائیکل اڈوائر اور ٹائمنر آف لندن کے مسٹر براؤن نے ان تجاویز کو نہایت ہی ضروری تجاویز قرار دیا اور بہت سے ممبران پارلیمنٹ اور دوسرے سر بر آوردوں نے ان کی اہمیت کو تسلیم کیا۔لیکن افسوس کہ ان حکام نے جن کے ساتھ ان تجاویز کا تعلق تھا ان کی طرف پوری توجہ نہ کی جس کا نتیجہ وہ ہوا جو نظر آرہا ہے ملک کا امن برباد ہو گیا اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑک اٹھی“۔(الفضل 19 اگست 1927ء ص 5۔انوار العلوم جلد 9 ص 632) یہ تفصیل بیان کرنے کے بعد حضور نے حکومت اور مسلمانوں کو مروجہ قانون (153) الف) کی چار واضح خامیوں کی طرف توجہ دلائی۔1۔موجودہ قانون صرف اس شخص کو مجرم گردانتا ہے جو فسادات کی نیت سے کوئی مضمون لکھے۔براہ