خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 76 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 76

76 ایک محضر نامہ تیار کیا جس پر پانچ لاکھ مسلمانوں کے دستخط تھے۔جماعت احمدیہ کے علماء مصنفین اور دوسرے احمدی اپنے محبوب امام کی ہدایات کے مطابق اس تحریک کو کامیاب کرنے کی جدو جہد میں مصروف ہو گئے۔الفضل 25 /اکتوبر 1927ء ص4) رسالہ ”ورتمان“ کی ضبطی اور اس کے طابع و ناشر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے پر ہندوؤں نے حکومت انگریزی پر زور دیا کہ وہ امام جماعت احمدیہ پر بھی مقدمہ چلائے مگر حکومت ہندوؤں سے مرعوب نہ ہوئی اور چیف جسٹس نے یہ مقدمہ ایک حج کے سپر د کر دیا۔لیکن حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے حکومت کو بذریعہ تار توجہ دلائی کہ یہ مقدمہ ایک سے زیادہ جوں کے سامنے پیش ہونا چاہئے تا دفعہ 153 - الف سے متعلق جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلہ کی تحقیق ہو جائے۔یہ معقول مطالبہ حکومت نے منظور کر لیا اور چیف جسٹس صاحب جو رخصت پر جارہے تھے۔بمبئی سے واپس آگئے اور مقدمہ ورتمان ڈویژن بینچ کے سپرد ہو گیا۔جس نے 6 اگست 1927 ء کو فیصلہ سنایا کہ مذہبی پیشواؤں کے خلاف بدزبانی 153۔الف کی زد میں آتی ہے اور بانی اسلام کو اسلام سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا اور بنابریں ڈویژن بینچ نے ورتمان کے مضمون نگار کو ایک سال قید با مشقت اور پانچ سو روپیہ جرمانہ اور ایڈیٹر کو چھ ماہ قید سخت اور اڑھائی سور و پیہ جرمانہ کی سزا دی۔الفضل 16 راگست 1927 ء ) تحفظ ناموس پیشوایان مذاہب کے لئے مکمل قانون کا مطالبہ مقدمہ ورتمان“ کے فیصلہ کے بعد اس امر کی فوری ضرورت تھی کہ بزرگان مذاہب کی توہین کے انسداد کے لئے پہلے سے زیادہ واضح اور زیادہ مکمل قانون کا مطالبہ حکومت سے کیا جاتا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے 10 اگست 1927ء کو فیصلہ ورتمان کے بعد مسلمانوں کا اہم فرض کے عنوان سے ایک اشتہار شائع کیا جس کے ابتداء میں یہ بتایا کہ جماعت احمد یہ اس قانون کے نامکمل ہونے کی دیر سے شا کی ہے۔چنانچہ حضور نے تحریر فرمایا کہ:۔1897ء میں بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گورنمنٹ کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ مذہبی فتن کو دور کرنے کے لئے اسے ایک زیادہ مکمل قانون بنانا چاہئے لیکن افسوس کہ لارڈ اینٹکن