خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 62
62 تعلیم القرآن کے متعلق تحریکات مصلح موعود کا ایک اہم فرض اور علامت یہ تھی کہ اس کے ذریعہ کلام اللہ کا مرتبہ ظاہر ہو گا۔اس لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے خلافت اولیٰ میں ہی تعلیم القرآن کا مقدس کام شروع کر دیا تھا۔آپ نے درس القرآن کا آغاز فرمایا اور سکولوں اور کالجوں کی تعطیلات کے دوران تربیتی کلاسز کا اجراء کیا۔خلافت ثانیہ میں حضور نے علم قرآن کے دریا بہائے۔معارف لٹائے جو تفسیر کبیر اور دوسری متعدد کتب سے چھلک رہے ہیں۔قرآن سیکھنے اور سکھانے کے نظام کو آپ نے منظم بنیا دوں پر قائم کرتے ہوئے متعد دتحریکات جاری فرمائیں۔تعلیم کتاب و حکمت : حضور نے اپنے عہد کی پہلی مجلس شوری 12 اپریل 1914ء میں سورۃ البقرہ آیت 130 کی روشنی میں اپنی خلافت کا لائحہ عمل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کے جانشین ہونے کی وجہ سے خلیفہ کا ایک بہت اہم کام تعلیم کتاب و حکمت ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :۔وو يعلمهم الكتب قرآن شریف کتاب موجود ہے اس لئے اس کی تعلیم میں قرآن مجید کا پڑھنا پڑھانا۔قرآن مجید کا سمجھانا آجائے گا۔کتاب تو لکھی ہوئی موجود ہے اس لئے کام یہ ہوگا کہ ایسے مدارس ہوں جہاں قرآن مجید کی تعلیم ہو۔پھر اس کے سمجھانے کے لئے ایسے مدارس ہوں جہاں قرآن مجید کا ترجمہ سکھایا جائے اور وہ علوم پڑھائے جائیں جو اس کے خادم ہوں۔ایسی صورت میں دینی مدارس کا اجراء اور ان کی تکمیل کا کام ہوگا۔دوسرا کام اس لفظ کے ماتحت قرآن شریف پر عمل کرانا ہوگا کیونکہ تعلیم دو قسم کی ہوتی ہے ایک کسی کتاب کا پڑھا دینا اور دوسرے اس پر عمل کروانا۔الحكمة تعليم الحکمۃ کے لئے تجاویز اور تدابیر ہوں گی کیونکہ اس فرض کے نیچے احکام شرائع کے اسرار سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔(انوار العلوم جلد 2 ص 31) پھر حضرت خلیفتہ اسی الاول کی وصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:۔حضرت خلیفہ اسیح نے اپنی وصیت میں اپنے جانشین کے لئے فرمایا متقی ہو، ہر دلعزیز ہو، قرآن و