خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 58 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 58

58 ہوتا کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ مومن کے دل میں خشیت اللہ پیدا ہو۔اس وقت وہ شخص ناچ اور رنگ رلیوں میں مصروف تھا۔یہ آیت سنتے ہی چنیں مار کر رونے لگ گیا۔سارا قرآن سن کر اس پر اثر نہ ہوتا تھا لیکن یہ آیت سن کر ان کی حالت بدل گئی۔یہ اصلاح کنورشن کہلاتی ہے۔ایک سلوک ہوتا ہے۔یعنی انسان اپنی اصلاح کی آہستہ آہستہ کوشش کرتا ہے۔وہ ذکر الہی کرتا ہے اور دوسروں سے دعائیں کراتا ہے اور اسی طرح اپنی اصلاح میں لگا رہتا ہے لیکن کبھی یہ دونوں باتیں ایک ہی انسان میں پائی جاتی ہیں۔جماعت احمدیہ میں جو شخص داخل ہوتا ہے اس پر یہ دونوں حالتیں آتی ہیں جب کوئی پہلے پہل داخل ہے ہے تو ابدال میں شامل ہوتا ہے ایک عظیم الشان تغیر اس پر آتا ہے۔حضرت مسیح موعود کا ایک الہام ہے يدعون لك ابدال الشام شام کے ابدال تیرے لئے دعائیں کرتے ہیں گو اس جگہ ابدال شام کا ذکر ہے لیکن اس سے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ احمدیت میں سچے دل سے داخل ہونے والے ابدال میں شامل ہوتے ہیں۔یعنی شخصیت کو بدلنے والی ایک فوری تبدیلی ان میں پیدا ہوتی ہے جیسا کہ اس لفظ کے معنوں سے ثابت ہوتا ہے۔بدل عوض کو کہتے ہیں اور تغیر کو بھی ، مراد یہ ہوتی ہے کہ پہلے وجود کی جگہ ایک نیا و جو د اس شخص کو ملتا ہے مگر یہ یا درکھنا چاہئے۔کہ بعض لوگ پورے ابدال بن جاتے ہیں اور بعض ناقص یعنی کچھ حصہ ان کا سلوک کا محتاج رہ جاتا ہے اور ان لوگوں کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ مجاہدات سے اپنے بقیہ قصوں کو دور کریں اس قسم کے نقصوں کو دور کرنے کے لئے وعظ اور نصیحت کی جاتی ہے۔مگر خالی وعظ سے یہ کام نہیں ہوتا۔بلکہ ایک مستقل نگرانی کی حاجت باقی رہتی (انوار العلوم جلد 13 ص 345) حضور نے 1934 ء کے اوائل میں تحریک سالکین کی نسبت متعد د خطبات دیئے اور 23,9 فروری اور 23 مارچ کے خطبات جمعہ میں سالکین کو پانچ بنیادی ہدایات دیں جو یہ تھیں :۔اول یہ کہ بجائے اپنے کسی بھائی کو بدنام کرنے کے پہلے عام رنگ میں نصیحت کی جائے کہ وہ لوگ جنہیں کہیں سے روپیہ آنے کی امید نہ ہو۔وہ قرض نہ لیا کریں۔دوم روپیہ دینے والوں کو نصیحت کریں کہ ایسے لوگوں کو قرض دینے سے اجتناب کیا کریں۔سوم یہ کہ دھوکہ باز کا فریب جماعت میں ظاہر کریں تا لوگ اس سے بیچ کر ر ہیں۔الفضل 15 فروری 1934ء ص 8) چهارم احباب اپنے اپنے نقائص کا پتہ لگا ئیں اور ان کی اصلاح کریں۔اس سلسلہ میں اپنے نفس کا