خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 574
574 پھر فرمایا:۔بعض بچوں کو عام روایتی پڑھائی میں دلچسپی نہیں ہوتی۔اگر اس میں دلچسپی نہیں ہے تو پھر کسی ہنر کے سیکھنے کی طرف بچوں کو توجہ دلائیں۔وقت بہر حال کسی احمدی بچے کا ضائع نہیں ہونا چاہئے۔پھر ایسی فہرستیں ہیں جو ان پڑھے لکھوں کی تیار کی جائیں جو آگے پڑھنا چاہتے ہیں۔ہائر سٹڈیز کرنا چاہتے ہیں لیکن مالی مشکلات کی وجہ سے نہیں پڑھ سکتے تو جس حد تک ہوگا جماعت ایسے لوگوں کی مدد کرے گی۔لیکن بہر حال سیکرٹریان تعلیم کو خود بھی اس سلسلے میں Active ہونا پڑے گا اور ہونا چاہئے۔تو یہ چند مثالیں ہیں۔جو ذمہ داری ہے سیکرٹری تعلیم کی اور بھی بہت سارے کام ہیں اس بارہ میں چند مثالیں میں نے دی ہیں۔اگر محلے کے لیول سے لے کر نیشنل لیول تک سیکر ٹریان تعلیم موثر ہو جائیں اور کام کرنے والے ہوں تو یہ تمام باتیں جو میں نے بتائیں ہیں اور ان کے علاوہ بھی اور بہت ساری باتیں ہیں ان سب کا علم ہو سکتا ہے۔فہرست تیار ہوسکتی ہے اور پھر ایسے طلباء کو مدد کر کے پھر آگے پڑھایا بھی خطبات مسرور جلد اول ص 520,519) جاسکتا۔ہے۔کمزور بچوں کی مالی امداد مالی لحاظ سے کمزور بچوں کی تعلیم کے لئے جماعت کی طرف سے حضور نے بار بار مددفراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔فرمایا:۔اگر کوئی بچہ مالی حالت کی کمزوری کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر رہا تو جماعت کو بتائیں۔مجھے بتا ئیں انشاء اللہ کوئی بچہ مالی کمزوری کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔لیکن بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنا ان پر ظلم ہے۔( الفضل 6 جولائی 2004ء) 2004ء میں حضور افریقہ کے دورہ پر تشریف لے گئے۔14 مارچ 2004 ء کو حضور نے ٹی آئی سیکنڈری سکول اکمنی ایسار چرغانا کا معائنہ فرمایا۔حضور انور نے ایک طالب علم سے جو حضور انور کو شعبہ جغرافیہ کے چارٹس دکھا رہا تھا فرمایا : اگر تم فائنل امتحان میں 80 فیصد نمبر لے لوتو میرا تم سے وعدہ ہے کہ غانا سے باہر کسی بھی یو نیورسٹی میں اعلی تعلیم دلواؤں گا۔اس خوش قسمت طالب علم کا نام Enock Yaw asamoah ہے جو سکول کے شعبہ