خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 573
573 فرمائی ہیں جن کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔کم از کم تعلیمی معیار۔ایف اے حضور نے خطبہ جمعہ 5 دسمبر 2003 ء میں فرمایا۔پاکستان میں ہر بچے کے لئے خلیفہ المسح الثالث نے یہ شرط لگائی تھی کہ ضرور میٹرک پاس کرے بلکہ اب تو معیار بلند ہو گئے ہیں اور میں کہوں گا کہ ہر احمدی بچے کو ایف اے ضرور کرنا چاہئے۔افریقہ میں جو کم از کم معیار ہے پڑھائی کا سیکنڈری سکول کا یا جی سی ایس سی، یہاں بھی ہے، وہاں بھی۔اسی طرح ہندوستان اور بنگلہ دیش اور دوسرے ملکوں میں، یہاں بھی میں نے دیکھا ہے یورپ کے اور امریکہ کے بعض لڑکے ملتے ہیں وہ پڑھائی چھوڑ بیٹھتے ہیں۔تو یہ کم از کم معیار ضرور حاصل کرنا چاہئے بلکہ یہاں تک تعلیمی سہولتیں ہیں بچوں کو اور بھی آگے پڑھنا چاہئے اور سیکرٹریان تعلیم کو اپنی جماعت کے بچوں کو اس طرف توجہ دلاتے رہنا چاہئے۔اگر تو یہ بچے جس طرح میں نے پہلے کہا، کسی مالی مشکل کی وجہ سے انہوں نے پڑھائی چھوڑی ہوئی ہے تو جماعت کو بتائیں جماعت انشاء اللہ حتی الوسع ان کا انتظام کرے گی۔خطبات مسر در جلد اول ص 520,519) سیکرٹریان تعلیم کو ہدایات اس سے قبل حضور نے سیکر ٹر یان تعلیم کو فعال ہونے کی ہدایات دیتے ہوئے فرمایا۔عموماً سیکرٹریان تعلیم جماعتوں میں اتنے فعال نہیں جتنی ان سے توقع کی جاتی ہے یا کسی عہدیدار سے توقع کی جاسکتی ہے اور یہ میں یونہی اندازے کی بات نہیں کر رہا، ہر جماعت اپنا اپنا جائزہ لے لے تو پتہ چل جائے گا کہ بعض سیکرٹریان پورے سال میں کوئی کام نہیں کرتے۔حالانکہ مثلاً سیکرٹری تعلیم کی مثال دے رہا ہوں ،سیکرٹری تعلیم کا یہ کام ہے کہ اپنی جماعت کے ایسے بچوں کی فہرست بنائے جو پڑھ رہے ہوں، جو سکول جانے کی عمر کے ہیں اور سکول نہیں جار ہے۔پھر وجہ معلوم کریں کہ کیا وجہ ہے وہ سکول نہیں جار ہے۔مالی مشکلات ہیں یا صرف نکما پن ہی ہے اور ایک احمدی بچے کو تو توجہ دلانی چاہئے کہ اس طرح وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔