خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 557 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 557

557 ہوئے ہیں اور جہاں ہیومینیٹی فرسٹ (Humanity First) نہیں ہے، ان ایمبیسیز میں جا کر مدد خطبات مسرور جلد 3 ص 612) دے سکتے ہیں۔حضور انور نے ایک خط کے ذریعہ صدر اور وزیر اعظم پاکستان کو امداد کا یقین دلایا۔اسی طرح ناظر اعلی صدر انجمن احمدیہ پاکستان نے 10 لاکھ روپے حکومت کے فنڈ میں فوری طور پر جمع کرادیئے نیز انسانی ہمدردی کی مد کے تحت پورے ملک میں امدادی رقوم کی فراہمی شروع کر دی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ نے بے پناہ خدمت کی توفیق پائی۔جس کی کسی قدر تفصیل حضور انور کے خطبات میں موجود ہے۔جلسہ سالانہ یوکے 2006ء کے موقع پر حضور نے ان خدمات کا طائرانہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔جو پاکستان میں زلزلہ آیا تھا اس میں ہیومینیٹی فرسٹ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا کام کیا ہے اور کینیڈا، امریکہ، جرمنی ، یو کے اور ہالینڈ وغیرہ سے وہاں ڈاکٹروں اور رضا کاروں وغیرہ کی ٹیمیں گئی ہیں۔اور کام کرتی رہیں اور انہوں نے چھ مہینے سے زائد عرصہ تک کام کیا ہے۔اسی کام کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے اس تنظیم کو رجسٹرڈ کیا ہے۔75 ہزار زخمیوں اور مریضوں کو ہمارے ڈاکٹروں نے دیکھا ہے۔پاکستان میں 5لاکھ 20 ہزار کلو گرام امدادی سامان دیا گیا۔جس میں خوراک اور دوسری چیزیں شامل ہیں۔39 ہزار متاثرین کو عارضی رہائش گاہ کی سہولت دی گئی۔جن میں ٹینٹ اور جستی چادروں کے شیلٹرز وغیرہ شامل تھے۔ہیومینیٹی فرسٹ نے اسلام آباد میں میڈیکل ریلیف سنٹر قائم کیا جہاں شدید زخمی متاثرین اور ان کے خاندانوں کو 132 دن تک رکھا گیا اور ہر ممکن دیکھ بھال کی گئی۔125 شدید زخمیوں کو ان کے 850 را فراد خاندان کے ساتھ کھانا بھی مہیا کیا گیا۔24 گھنٹے سہولتیں فراہم تھیں۔3لاکھ 56 ہزار 400 سے زائد کھانے مہیا کئے گئے۔ہیومینیٹی فرسٹ کے کل رضا کاروں نے 4لاکھ 81 ہزار 192 مین آورز فیلڈ آپریشن میں خرچ کئے۔یہ انسانیت کا کام ہم نے کیا قطع نظر اس ( الفضل 4 اگست 2006ء) کے کہ وہاں کیا سمجھا جاتا ہے اور کیا کہا جاتا ہے۔یتامی کی خدمت کی تحریک حضور نے خطبہ جمعہ 23 جنوری 2004ء میں فرمایا:۔