خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 536
536 ایسی صورت پیدا کر دی ہے، مجھے امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ اس میں کامیابی ہوگی کہ وہیں سے مسجد کے اخراجات کے سامان بھی مہیا ہو جائیں گے۔ایک پرانا گھر ہے جس کو بیچ کر نئی جگہ خریدی جاسکتی ہے اور تعمیر بھی ہو سکتی ہے اور اگر تھوڑا بہت کچھ ضرورت ہوئی تو انشاءاللہ مرکز سے پوری ہو جائے گی“۔(الفضل 10 مئی 2005ء ) ویلنسیا سپین میں مسجد کی تحریک پین میں 1982ء میں مسجد بشارت کا افتتاح ہوا تھا۔حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے دورہ سپین کے دوران خطبہ جمعہ 14 جنوری 2005ء میں سپین میں ویلنسیا کے مقام پر مسجد کی تعمیر کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:۔” میرے دل میں بڑی شدت سے یہ خیال پیدا ہوا کہ پانچ سوسال بعد اس ملک میں مذہبی آزادی ملتے ہی جماعت احمدیہ نے مسجد بنائی اور اب اس کو بنے بھی تقریباً 25 سال ہونے لگے ہیں اب وقت ہے کہ سپین میں مسیح موعود کے ماننے والوں کی مسجد کے روشن مینار اور جگہوں پر بھی نظر آئیں۔جماعت اب مختلف شہروں میں قائم ہے۔جب یہ مسجد بنائی گئی تو اس وقت یہاں شاید چند لوگ تھے۔اب کم از کم سینکڑوں میں تو ہیں۔پاکستانیوں کے علاوہ بھی ہیں۔جماعت کے وسائل کے مطابق عبادت کرنے والوں کے لئے ، نہ کہ نام و نمود کے لئے اللہ کے اور گھر بھی بنائے جائیں۔تو اس کے لئے میرا انتخاب جو میں نے سوچا اور جائزہ لیا تو ویلنسیا (Valencia) کے شہر کی طرف توجہ ہوئی۔یہ کام بہر حال انشاء اللہ شروع ہوگا۔اور جماعت کے جو مرکزی ادارے ہیں یا دوسرے صاحب حیثیت افراد ہیں اگر خوشی سے کوئی اس مسجد کے لئے دینا چاہے گا تو دے دیں اس میں روک کوئی نہیں ہے۔لیکن تمام دنیا کی جماعت کو یا احمدیوں کو میں عمومی تحریک نہیں کر رہا کہ اس کے لئے ضرور دیں۔یہ مسجد بن جائے گی چاہے مرکزی طور پر فنڈ مہیا کر کے بنائی جائے یا جس طرح بھی بنائی جائے اور بعد میں پھر سپین والے اس قرض کو واپس بھی کر دیں گے جس حد تک قرض ہے۔تو بہر حال یہ کام جلد شروع ہو جانا چاہئے اور اس میں اب مزید انتظار نہیں کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق دے۔کیونکہ اب تک جو سرسری اندازہ لگایا ہے اس کے مطابق دو تین سو نمازیوں کی گنجائش کی مسجد انشاء اللہ خیال ہے کہ