خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 522
522 حضرت خلیفة اصبح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقع پر یکم اگست 2004 ء کو اختتامی خطاب میں یہ عظیم الشان تحریک پیش فرمائی جو حضور کے مقدس الفاظ میں پیش خدمت ہے۔1905ء سے لے کر آج تک صرف اڑ میں ہزار کے قریب احمدیوں نے وصیت کی ہے۔اگلے سال انشاء اللہ تعالیٰ وصیت کے نظام کو قائم ہوئے سو سال ہو جائیں گے۔میری یہ خواہش ہے اور میں یہ تحریک کرنا چاہتا ہوں کہ اس آسمانی نظام میں اپنی زندگیوں کو پاک کرنے کے لئے اپنی نسلوں کی زندگیوں کو پاک کرنے کے لئے شامل ہوں۔آگے آئیں اور اس ایک سال میں کم از کم پندرہ ہزارنٹی وصایا ہو جائیں تا کہ کم از کم پچاس ہزار وصایا تو ایسی ہوں کہ جو ہم کہہ سکیں کہ سو سال میں ہوئیں۔تو ایسے مومن نکلیں کہ کہا جا سکے کہ انہوں نے خدا کے مسیح کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کئے۔۔۔۔میری یہ خواہش ہے کہ 2008ء میں جو خلافت کو قائم ہوئے انشاء اللہ تعالیٰ سو سال ہو جائیں گے تو دنیا کے ہر ملک میں، ہر جماعت میں جو کمانے والے افراد ہیں ، جو چندہ دہند ہیں اُن میں سے کم از کم پچاس فیصد تو ایسے ہوں جو حضرت اقدس مسیح موعود کے اس عظیم الشان نظام میں شامل ہو چکے ہوں اور روحانیت کو بڑھانے کے اور قربانیوں کے یہ اعلیٰ معیار قائم کرنے والے بن چکے ہوں اور یہ بھی جماعت کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے حضور ایک حقیر سانذرانہ ہوگا جو جماعت خلافت کے سو سال پورے ہونے پر شکرانے کے طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر رہی ہوگی اور اس میں جیسا حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا ہے ایسے لوگ شامل ہونے چاہئیں جو انجام بالخیر کی فکر کرنے والے اور عبادات بجالانے والے ہیں۔جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے اس لئے خدام الاحمدیہ، انصار اللہ صف دوم جو ہے اور لجنہ اماءاللہ کو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔کیونکہ ستر پچھتر سال کی عمر میں پہنچ کر جب قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے ہوں تو اُس وقت وصیت تو بچا کھچا ہی ہے جو پیش کیا جاتا ہے۔امید ہے کہ احمدی نوجوان بھی اور خواتین بھی اس میں بھر پور کوشش کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کو خاص طور پر میں کہ رہا ہوں کہ اپنے ساتھ اپنے خاوندوں اور بچوں کو بھی اس عظیم انقلابی نظام میں شامل کرنے کی کوشش کریں۔پس غور کریں ،فکر کریں۔جو بستیاں، کوتاہیاں ہو چکی ہیں اُن پر استغفار کرتے ہوئے اور حضرت