خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 515
515 از کم 70 فیصد ایسی ہوں جو ہمیں نظر آ رہی ہوں“۔نیز با قاعدہ علیحدہ ٹیمیں بنانے کا ارشاد کرتے ہوئے فرمایا:۔حضرت خلیفہ المسح الرائع نے جب بیعتوں کا کہاتھا ساتھی بھی فرمایا تھا کہ تربیت کے لئے علیحدہ ٹیمیں بنا ئیں۔وہ ٹیمیں تو جماعتی طور پر امراء کو بنانی چاہئے تھیں۔۔۔۔اس طرح عاملہ کے ممبران کو توجہ دلانی چاہئے تھی۔تربیت کے شعبے کو توجہ دلانی چاہئے تھی۔تو اس پر کام نہیں ہوا اور یہی وجہ ہے کہ بہت ساری بیعتیں ضائع ہو گئی ہیں۔یہ آپ لوگوں کو جو فیلڈ میں موجود ہیں ہر ایک کو پتہ ہے۔آنکھیں بند کرنے سے حقائق نہیں چھپ جایا کرتے اس لئے آنکھیں بند کرنے کی بجائے حقیقت کو اپنے سامنے رکھیں اور فیلڈ میں جا کر مجھے یہ بتائیں کہ اس وقت جو بیعتیں ہوئی تھیں، کتنوں کے فعال رابطے جماعت کے ساتھ ہیں۔کتنے ایسے ہیں جو وقتاً فوقتاً رابطہ رکھتے ہیں۔کتنے لوگ ہیں جو ضائع ہو چکے ہیں اور کتنی جماعتیں یا جگہیں ، قصبے یا شہر ایسے ہیں جہاں آپ گزشتہ چھ یا دس سال میں گئے ہی نہیں؟ اور اس کے لئے اب کیا پروگرام بنایا ہے؟ کس طرح فعال کریں گے اس کو؟ باقاعدہ ٹیمیں بنائیں۔مقامی لوگوں کے ساتھ مربیان کی ٹیمیں بھی شامل ہوں تو اس طرح امید ہے کہ اگر کوشش کریں گے۔ہر ایک اپنے اپنے حالات کے مطابق پروگرام بنائے اور پھر مجھے لکھے کہ یہ پروگرام ہمارا بنا ہے اور ہم اس پر کوشش کر رہے ہیں۔نئے آنے والوں سے پیار و محبت کا سلوک کریں حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ قادیان اور جلسہ سالانہ فرانس سے خطاب کرتے ہوئے 26 دسمبر 2004ءکو فرمایا:۔فرانس میں جو مختلف قومیتوں کے لوگ جماعت میں شامل ہوئے ہیں۔انہیں اپنے ساتھ چمٹائیں۔وہ اپنے عزیزوں، رشتہ داروں اور اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر آئے ہیں یہ ان کی نیک فطرت اور پاک فطرت ہی ہے جس نے انہیں احمدیت کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اسی طرح ہندوستان میں بھی جو نئے احمدی ہوئے ہیں گو وہ مالی لحاظ سے غریب لوگ ہیں لیکن ان کے دل امیروں سے زیادہ روشن ہیں۔ان میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور خشیت کا جذبہ دوسروں سے زیادہ ہے۔