خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 35
35 وعدہ ان سے بھی کر لیا ہے اور 30 روپے نقد بھی دیئے۔ایک پرانی رقم ساٹھ روپیہ کی جو اس کام کے لئے جو میں نے جمع کی اس کے بھی نکلوا دینے کا وعدہ کیا۔اس جوش بھرے مخلص نے قادیان کے بستی مخالفوں اور موافقوں ہندو اور مسلمان۔دشمن و دوست سب کو چندہ کے لئے تحریک کی۔جہاں تک مجھے علم ہے۔اس کا اثر تھا۔کہ رات کے وقت میری بیوی نے مجھ سے بیان کیا۔کہ آج جو میر صاحب نے تحریک کی ہے اس میں میں نے بچے دل اور کامل جوش اور پورے اخلاص سے چندہ دیا ہے۔اور میں چاہتی ہوں کہ اگر ایسے مکان کے لئے ہمارے کوئی مکان کسی طرح بھی مفید ہوسکیں۔تو میں اپنی خام حویلی دینے کو دل سے تیار ہوں۔یہ سب کچھ میر صاحب کے اخلاص اور دلی جوش کا نتیجہ تھا۔(الحکم 14 جنوری 1909 ص 4) حضرت میر ناصر نواب صاحب کی کوششوں سے یکم رمضان 1335ھ مطابق 21 جون 1917 ء کو نور ہسپتال کی بنیا درکھی گئی۔اور ستمبر 1917ء میں اس کی تکمیل ہوئی۔ابتداء ہسپتال میں کوئی سند یافتہ ڈاکٹر نہیں تھا، اس لئے حضرت مصلح موعودؓ کے خصوصی اشارہ پر محترم حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب ریاست پٹیالہ سے بلوائے گئے اور 2 فروری 1919ء کو ان کا تقرر عمل میں آیا۔پہلے حضرت میر محمد الحق صاحب افسر نور ہسپتال تھے مگر اب حضرت ڈاکٹر صاحب میڈیکل ایڈوائزر مقرر ہوئے۔آپ کے زمانہ میں ہسپتال نے خوب کام کیا ، زنانہ وارڈ قائم ہوا، آپریشن روم میں ترقی ہوئی۔1930ء میں اسے سیکنڈ گریڈ ہسپتال کی حیثیت حاصل ہوئی۔اسی سال اس کے لئے مستقل قواعد وضوابط تجویز کئے گئے۔نور ہسپتال متحدہ ہندوستان کا واحد ادارہ تھا جس نے ایک مذہبی جماعت کی نگرانی میں ربع صدی سے زائد عرصہ تک بلا تمیز مذہب وملت خدمت کی۔13 جنوری 2006ء کو حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے دورہ قادیان کے دوران نور ہسپتال کی نئی عمارت کا افتتاح فرمایا۔ہسپتال کی عمارت نہایت پر شکوہ ہے اور قادیان اور اس کے ماحول کی تمام طبی ضروریات پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔الفضل 18 مارچ 2006 ص 3) حضرت اماں جان نے یکم اگست 1923ء کو نور ہسپتال قادیان کے زنانہ وارڈ کا سنگ بنیا درکھا۔