خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 493 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 493

493 تربیتی تحریکات قیام نماز کی تحریک حضور آغاز خلافت سے ہی جماعت کو نماز کی طرف مسلسل توجہ دلاتے رہے ہیں۔خطبہ جمعہ 13 را پریل 2007ء میں خلافت اور عبادت کا تعلق بیان کرتے ہوئے اور خصوصاً اہل ربوہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔نمازوں کے حوالے سے ہی میں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں ہمیشہ یادرکھیں کہ خلافت کے ساتھ عبادت کا بڑا تعلق ہے اور عبادت کیا ہے؟ نماز ہی ہے۔جہاں مومنوں سے دلوں کی تسکین اور خلافت کا وعدہ ہے وہاں ساتھ ہی اگلی آیت میں اقیموا الصلواۃ کا بھی حکم ہے۔پس تمکنت حاصل کرنے اور نظام خلافت سے فیض پانے کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ نماز قائم کرو، کیونکہ عبادت اور نماز ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والی ہوگی۔ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس انعام کے بعد اگر تم میرے شکر گزار بنتے ہوئے میری عبادت کی طرف توجہ نہیں دو گے تو نافرمانوں میں سے ہو گے۔پھر شکر گزاری نہیں ناشکر گزاری ہوگی اور نافرمانوں کے لئے خلافت کا وعدہ نہیں ہے بلکہ مومنوں کے لئے ہے۔پس یہ انتباہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اپنی نمازوں کی طرف توجہ نہیں دیتا کہ نظام خلافت کے فیض تم تک نہیں پہنچیں گے۔اگر نظام خلافت سے فیض پانا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرو کہ یعبد و ننی یعنی میری عبادت کرو۔اس پر عمل کرنا ہوگا۔پس ہر احمدی کو یہ بات اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لینی چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا ، جو خلافت کی صورت میں جاری ہے، فائدہ تب اٹھا سکیں گے جب اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہوں گے۔گزشتہ دنوں پاکستان سے آنے والے کسی شخص نے مجھے لکھا کہ میں ربوہ گیا تھاوہاں فجر اور عشاء پر مسجد میں حاضری بہت کم لگی۔یہ وہاں والوں کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے۔ربوہ تو ایک نمونہ ہے اور گزشتہ چند سالوں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس طرف بہت توجہ ہو گئی تھی۔آنے جانے والوں کی بھی بڑی پورٹس آتی تھیں کہ ربوہ میں مساجد کی حاضری بڑھ گئی ہے۔بلکہ بازاروں میں بھی کاروبار کے اوقات