خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 484
484 کے جذبے سے مجبور ہو کر انفرادی طور پر یہ حق مانگتے ہیں کہ ہمیں شامل کر لیا جائے تو ایسے شخص کی قربانی کو رد نہیں کیا جائے گا۔کسی جماعت کو یہ حق نہیں کہ وہ یہ سمجھے کہ چونکہ عام تحریک نہیں کی گئی تھی اس لئے ان سے قبول نہیں کرنا۔ان تین اصولوں کے تابع میں اس تحریک کا اعلان کرتا ہوں کہ ہندوستان کی ضرورتوں اور فوری ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے جماعت کو چالیس لاکھ رو پیدا کٹھا کرنا چاہئے“۔نو مبائعین کی تربیت کی تحریک 1993 ء سے عالمی بیعت کے نظام کے ساتھ ہی حضور نے نو مبائعین کی تربیت کی طرف خصوصی توجہ فرمائی اور کل عالم کے احمدیوں کو تحریک فرمائی کہ وہ نئے آنے والوں کو جلد از جلد اپنے معاشرہ میں جذب کرنے کی کوشش کریں۔اس ضمن میں حضور نے انہیں مالی قربانی کے نظام میں بتدریج شامل کرنے کی بھی ہدایت فرمائی۔نیز حضور نے فرمایا کہ ان کی تربیت کا بہترین طریق یہ ہے کہ انہیں مبلغ بنادیا جائے۔اس مقصد کے لئے ان کے منتخب نمائندوں کو مقررہ مراکز میں بلا کر تعلیم دی جائے اور وہ باقی افراد تک یہ پیغام پہنچائیں۔اس ضمن میں حضور نے فرمایا کہ نئی عالمی بیعت کے بعد شروع کے 3 ماہ خاص طور پر نو مبائعین کی تربیت کی طرف توجہ کی جائے۔ان کے نمائندہ وفود مرکز میں بھجوائے جائیں جو دینی علم سیکھ کر واپس جا کر سکھائیں۔19 اگست 1994ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا: کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے انعامات کے پھلوں کی بارش ہورہی ہے کہ انہیں سنبھالنا ایک بہت بڑا کام ہے اور جو بھل سنبھالا نہ جائے وہ ضائع ہو جایا کرتا ہے اس لئے ایسی تربیت گاہیں کھولنا ضروری ہیں جو تمام سال کام کرتی رہیں۔پھر فرمایا:۔”جہاں جہاں سے بھی تو میں احمدیت میں داخل ہورہی ہیں ان کی نگرانی کرنے والوں میں سے ہر ایک کو میں تاکید کرتا ہوں کہ ان آنے والوں کو روز مرہ کچھ قربانی کی عادت ڈالیں اور جن کو عادت پڑ جائے گی ان کا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں تھمایا جائے گا۔خدا ایسے ہاتھ سے ان کو رزق دے گا جس میں آپ کے ہاتھ کی ضرورت باقی نہیں رہے گی پھر ان کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہو جاتا ہے اور تحریک جدید کے تعلق میں میں یہ گزارش کروں گا کہ تحریک جدید کا جو کم سے کم معیار ہے ان نئے آنے