خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 33 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 33

33 اخراجات ہوئے اس میں عام چندہ کے علاوہ ساڑھے چار ہزار روپیہ حکیم فضل الدین صاحب بھیروی کی موہو بہ حویلی اور زمین سے حاصل ہوئے۔تاریخ احمدیت جلد 3 ص 312) مدرسہ تعلیم الاسلام اور اس کے بورڈنگ وغیرہ عمارات کے لئے 400 کنال زمین خریدی گئی تھی۔(حیات نورص 447) تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عالی شان عمارت کی تجویز تو بورڈنگ ہاؤس کے ساتھ ہی ہو چکی تھی مگر اس کی بنیاد حضرت خلیفتہ المسح الاول نے جمعیت صاحبزادگان حضرت مسیح موعود 25 جولائی 1912ء کو رکھی۔آپ نے تین جگہ بنیادی اینٹیں رکھیں۔بدر یکم اگست 1912 ء ص 2 کالم نمبر 2) مدرسہ تعلیم الاسلام کی عمارت بورڈنگ کی عمارت سے بھی زیادہ شاندار اور زیادہ جاذب نظر تیار ہوئی۔جس میں عام کمروں کے علاوہ سائنس روم اور وسیع ہال بھی تھا اور اس کی پیشانی پر برج بھی بنائے گئے اس عمارت پر 30 ستمبر 1913 ء تک قریباً پچاس ہزار روپیہ صرف ہوا۔جس میں 16 کمرے اردگرد برآمدوں سمیت تیار ہوئے اور تھوڑ اسا ہال بھی۔عمارت کی پہلی منزل کی تکمیل کے دوران میں روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن حضرت خلیفہ اسیح نے پانچ ہزار روپیہا اپنی ذمہ داری پر بعض ذی استطاعت احباب سے لے کر عطا فرمایا۔جس سے فوری ضروریات پوری ہو گئیں۔چونکہ مدرسہ کی پرانی عمارت میں طلباء کی گنجائش نہ تھی۔اس لئے مئی 1913ء میں ہی سکول کو ادھوری عمارت میں لانا پڑا۔توسیع مسجد اقصیٰ تاریخ احمدیت جلد 3 ص 313 1910ء کی پہلی سہ ماہی میں مسجد اقصیٰ کی توسیع بھی عمل میں آئی۔اس کے لئے تین ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ کیا گیا۔جس کے نتیجہ میں ایک بڑا کمرہ اور ایک لمبا برآمدہ تیار ہو گیا۔مستورات کی نماز کے لئے زیر تعمیر منارة المسیح کے ساتھ ایک چبوترہ بھی بنادیا گیا۔1909ء کا جلسہ سالانہ تاخیر کے ساتھ 25 تا 27 مارچ 1910 ء کو منعقد ہونے والا تھا اور مسجد کے نچلے کمرہ میں مٹی ڈلوانے کے لئے مزدور فراہم نہیں ہو رہے تھے اور اندیشہ تھا کہ جلسہ تک یہ حصہ مکمل ہو سکے گا۔اس لئے حضرت خلیفہ اول نے 11 مارچ 1910ء کو نماز جمعہ کے بعد تحریک فرمائی کہ