خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 457 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 457

457 جمعہ 5 اپریل 1992ء میں فرمایا:۔ایک دفعہ عید کے موقع پر میں نے یہ نصیحت کی تھی کہ بچی عید تو وہی ہوتی ہے جس میں خوشیوں والا اپنی خوشیوں میں دوسرے کو شریک کرے اور کسی کا دکھ اس طرح بانٹے کہ اس کے دکھ میں کمی واقع کرے اس کی کچی ہمدردی محسوس کرے اور غریبوں کے ساتھ اپنی خوشیاں ملا دے۔ان کی خوشیوں کا معیار بلند کر دے خواہ اس میں اپنی خوشیاں کچھ کم ہی کرنی پڑیں۔اس نصیحت کو جماعت نے بہت ہی عمدہ طریقے پر قبول فرمایا اور ساری دنیا میں ہماری عید کی خوشیوں کے ساتھ یہ مضمون داخل ہوا۔بہت سے لوگ بعد میں بھول گئے لیکن بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے اس کو یا درکھا ہوا ہے اور اکثر عید کے بعد مجھے خطوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ بھی اس نصیحت کو یادر کھے ہوئے ہیں اور اس پر مستقل عمل کر رہے ہیں ان کی عید عام عیدوں کے مقابل پر بہت ہی زیادہ پُر لطف اور عظیم روحانی کیفیات کی حامل ہو جاتی ہے اور ہمیشہ لکھنے والے لکھتے ہیں کہ جب ہمیں یہ بات یاد آتی ہے اور تلاش کر کے محلے والوں کے پاس پہنچتے ہیں۔اپنی خوشیاں غریبوں کی خوشیوں میں ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے بچوں کے لئے کوئی تحفہ لے کر جاتے ہیں۔گھر میں کوئی اچھا کھانا پہنچا دیتے ہیں تو جو کیفیت ہم دیکھتے ہیں وہ ایک ایسی عظیم جزا ہے کہ اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔دنیا کی کوئی دوسری لذت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔بعض خطوں میں ایسے دردناک نظارے ہوتے ہیں جو خوشی کی دردناکیاں ہیں۔خوشی سے بھی تو آنسو آ جایا کرتے ہیں۔مجھے ایک خط کا مضمون یاد ہے۔جس میں وہ کہتے ہیں کہ جب ہم ایک غریب کے گھر پہنچے تو ان کے ہاں واقعی ضرورت تھی۔ایسی عید منارہے تھے کہ جس میں کھانے کی کوئی اچھی چیز تھی۔نہ گوشت تھا نہ کوئی اور چیز۔نہ کپڑے تھے ، کہتے ہیں وہ واری واری جاتے تھے۔دعا بن گئے بار بار کہتے تھے کہ یہ کیا واقعہ ہو گیا۔اللہ کی شان کہ آپ ہماری ضرورتیں لے کر پہنچے اور ہماری عید ہوگئی۔ہمارے بچوں کی عید ہو گئی۔اس طرح دعائیں بے اختیار ان کے دلوں سے نکلتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ ساری عمر کی عیدوں کا اتنا مزا نہیں آیا جتنا اس ایک عید کا مزا آ گیا تو میں اس نصیحت کو بھی دوبارہ یاد کراتے ہوئے آج ایک اور نصیحت کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اپنی بیویوں سے حسن سلوک کیا کرو۔ہر سچے احمدی کو ایک نصیحت: ایسی بیویاں جو خاوندوں کے ظلموں تلے زندگی بسر کرتی ہیں وہ بے بس اور بے اختیار ہوتی ہیں اور