خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 451
451 کے معانی بھی ساتھ ساتھ سکھائے جائیں۔اکثر لوگ جو ناظرہ پڑھا دیتے ہیں وہ کافی نہیں ہے۔اگر ناظرہ قرآن کے ساتھ ساتھ آپ اس کے معانی بھی کچھ سکھاتے چلے جائیں تو قرآن کریم سے محبت ہونا ایک لازمی بات ہے۔اب مجھے علم نہیں کہ آپ میں سے کتنے ہیں جو میری قرآن کریم کی کلاس کو غور سے سنتے ہیں یا سن سکتے ہیں یا ان تک پہنچتی بھی ہے کہ نہیں۔مگر اس کلاس میں جو آنے والے ہیں ان میں کم علم عورتیں بھی ہیں، بڑے بڑے صاحب علم مرد بھی ہیں لیکن جب قرآن کریم کو سمجھا کر پڑھایا جائے تو اس سے محبت ہونا ایک لازمی بات ہے، آدمی رک ہی نہیں سکتا محبت کئے بغیر۔قرآن کریم پڑھانا اور خشکی یہ دو چیزیں اکٹھی ہو ہی نہیں سکتیں۔چنانچہ میں اپنی کلاس کو سمجھاتا ہوں اور بسا اوقات دیکھتا ہوں کہ جب میں قرآن کریم سے فطرت کے راز ان کو سمجھاتا ہوں ، قرآن کریم نے کن کن رازوں سے پردہ اٹھایا ہے، کیا کیا معرفت کی باتیں کی ہیں ، میری نظر اٹھتی ہے تو میں ان کو بھی روتے ہوئے دیکھتا ہوں اور میری اپنی آنکھیں بھی آنسو بہا رہی ہوتی ہیں۔اب خشک تعلیم سے تو آنسو نہیں جاری ہوا کرتے۔لازماً اللہ تعالیٰ کی محبت کے چشمے بہہ رہے ہیں قرآن کریم میں اور وہی چشمے ہیں جو سننے والوں کی آنکھوں سے اور سنانے والے کی آنکھوں سے جاری ہو جاتے ہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب قرآن کریم کے متعلق اس کو نعمت بیان فرماتے ہیں تو ہرگز ایک ذرہ بھی مبالغہ اس میں نہیں ہے۔ایسی ایسی معرفت کی باتیں قرآن کریم میں بیان ہیں کہ ناممکن ہے کہ قرآن کریم پڑھیں اور اس سے محبت نہ ہو جائے اور اگر قرآن سے محبت ہو جائے تو زندگی کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔جن لوگوں کو محبت ہوتی ہے ان کی ساری برائیاں دور ہو جاتی ہیں ، ان کو ایک نئی زندگی نصیب ہوتی ہے اور بکثرت لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ اگر چہ ہماری اپنی تعلیم زیادہ نہیں تھی مگر قرآن کریم کی کلاس میں بیٹھنے کا موقع ملا اور ہم نے ایک نئی زندگی پالی ہے۔اب یہی کتاب ایک عام کتاب نہیں ہے جو اسے پڑھتے وقت مشکل ہو، جا گنا مشکل رہے اس کو تو پڑھنے کے ساتھ ساتھ ہی تمام خوابیدہ جذبات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور قرآن کی تائید میں اور اس کی حکمتوں کی تائید میں فطرت کا لفظ لفظ بولتا ہے۔۔عجز اور انکساری کے ساتھ قرآن کریم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی ضرورت ہے، اپنا سر جھکا دیں اور غور سے پڑھیں اور آیات کے تسلسل پر غور کریں تو حیران رہ جائیں گے کہ قرآن کریم کی آیات ایک