خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 429 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 429

429 دعوت الی اللہ کے متعلق تحریکات دعوت الی اللہ کی تحریک تو آغاز سے ہی جماعت میں جاری ہے۔مگر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے اس تحریک کونئی زندگی اور شان عطا کی۔حضور نے 28 جنوری 1983ء کو مسجد اقصیٰ ربوہ میں خطبہ جمعہ میں تمام جماعت احمدیہ کو داعی الی اللہ بنے کی تحریک کی۔فرمایا:۔تمام دنیا کے احمدیوں کو میں اس اعلان کے ذریعہ متنبہ کرتا ہوں کہ اگر وہ پہلے مبلغ نہیں تھے تو آج کے بعد ان کو لازماً مبلغ بننا پڑے گا۔اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کے لئے بہت وسیع تقاضے ہیں اور یہ بہت بڑا بوجھ ہے جو جماعت احمدیہ کے کندھوں پر ڈالا گیا ہے۔۔آج کے بعد اگر ہر احمدی یہ سوچ لے کہ وہ جس ملک میں اور جہاں بھی ہے وہ لازماً دنیا کمائے گا کیونکہ اس کے بغیر گزارہ نہیں ہے اور دین کی خاطر کچھ پیش کرنے کے لئے اسے دنیا کمانی چاہئے لیکن وہ ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھے کہ اس کا مال کمانے کا مقصد بھی اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا ہوگا اور اس کی زندگی کے ہرلمحہ کا جواز اس بات میں مضمر ہوگا کہ وہ خدا کی خاطر جیتا ہے اور خدا کی طرف بلانے کے لئے جیتا ہے اس عہد کے ساتھ جب وہ کام شروع کرے گا تو آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دنیا میں کس کثرت کے ساتھ اور کس تیزی کے ساتھ وہ انقلاب پیدا ہونا شروع ہو جائے گا جس کی ہم تمنا لئے خطبات طاہر جلد 2 ص 62,57 ) بیٹھے ہیں۔پھر حضور نے دعوت الی اللہ کے موضوع پر خطبات کا ایک سلسلہ شروع کیا جس میں ہر پہلو - داعیان الی اللہ کی راہنمائی کا سامان موجود تھا۔حضور نے فرمایا کہ میرے لئے آپ کا بہترین نذرانہ یہ اطلاع ہے کہ میں داعی الی اللہ بن گیا ہوں۔(خطبات طاہر جلد اول ص 62) یہی تحریک دعوت الی اللہ حضور کی ساری خلافت کا محور تھی۔اسی تحریک نے خلافت رابعہ کا ہر اول دستہ بن کر نئی نئی قوموں اور علاقوں کو فتح کیا اور دنیا میں ایک عظیم الشان انقلاب کی بناڈالی۔ملکوں کے ذمہ کئی ممالک لگائے گئے۔معین ٹارگٹ دیئے گئے اور حضور کی دعاؤں سے ہزار ہاداعیان الی اللہ نے فتوحات کے جھنڈے گاڑے۔کمزور افراد اور جماعتوں میں حوصلوں اور جراتوں نے جنم لیا۔توانائیاں