خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 24
24 لله وحصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔جامعہ احمد یہ جو نیئر سیکشن اور سینئر سیکشن۔تقسیم ہند کے بعد قادیان میں مدرسہ احمدیہ کے نام سے ادارہ جاری رہا جس میں تدریس کا جدید دور 1954 ء سے شروع ہوا۔1998ء میں اسے ترقی دے کر جامعہ احمد یہ بنادیا گیا۔(مجلہ جامعہ احمدیہ قادیان ص 58,54) خلافت اولی میں قائم ہونے والا یہ چھوٹا سا ادارہ تھا جو کئی مختلف مراحل اور ادوار سے گزرتا ہوا جامعہ احمدیہ کی صورت میں عظیم الشان خدمت کر رہا ہے۔جس کے فارغ التحصیل طلباء نے قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کرتے ہوئے جابجاہدایت کے بیج بوئے جواب اکثر مقامات پر تناور درخت بن چکے ہیں۔جامعہ احمدیہ کی مرکزی شاخیں قادیان اور ربوہ میں ہیں۔اس کے علاوہ انگلستان، کینیڈا ، انڈونیشیا، بنگلہ دیش ، غانا، نائیجیریا، سیرالیون، تنزانیہ وغیرہ میں جامعہ احمدیہ قائم ہو چکے ہیں اور سینکڑوں واقفین زندگی زیرتعلیم ہیں۔مولوی ثناء اللہ امرتسری نے دینی مدرسہ کی تحریک پر یہ تبصرہ کیا تھا کہ: خلیفہ نورالدین نے حکم دیا ہے کہ مرزا کی یادگار میں دینی مدرسہ قائم کیا جائے ہم بھی اس مدرسہ کی تائید کرتے ہیں۔امید ہے کہ مرزا صاحب کے راسخ مرید جی کھول کر اس میں چندہ دیں گے کہ آخر کار یہ مدرسہ ہمارا ہوگا اور مرزائی خیال عنقریب نسیا منسیا ہو کر اڑ جائے گا“۔( مرقع قادیانی ستمبر اکتوبر 1908 ء ص 3 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 ص230) ایک طرف یہ تعلی اور توقعات اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ برکت کہ ہزاروں واقفین زندگی اس ادارے سے فیض یاب ہو چکے ہیں اور 2006ء میں جامعہ احمدیہ نے دنیا بھر میں اپنے قیام کی سوویں سالگرہ منائی اور اپنے عزائم کو تازہ کیا۔سید نا حضرت خلیفة المسیح الامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یکم اکتوبر 2005ء کو جامعہ احمدیہ یو۔کے کے افتتاح کے موقع پر فرمایا۔یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو جماعت احمدیہ کا دینی تعلیم سکھانے والا ادارہ ہے۔وہ لوگ یہاں داخل ہوں گے جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کی ہیں۔تو اس لحاظ سے بہر حال پھر