خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 363
363 نصرت جہاں سکیم افریقن اقوام مدتوں سے انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنی ہوئی تھیں۔ان کو غلام بنا کر جدید دنیا کی تعمیر میں اینٹوں اور پتھروں کی طرح استعمال کیا گیا۔ان کی معدنی دولت لوٹ لی گئی۔انہیں ہر شرف اور عزت سے بے نصیب کر دیا گیا اور انہیں اندھیروں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔ان قوموں کی دوبارہ زندگی حضرت مسیح موعود اور ان کے غلاموں کے ذریعہ مقدر تھی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ہی ان مظلوموں تک احمدیت کا پیغام پہنچا۔سعید روحوں نے اسے قبول کیا اور ان کی روحانی پاکیزگی کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا۔جو خلافت ثانیہ میں بھی جاری رہا۔اس منصوبے میں ایک عظیم موڑ اس وقت آیا جب حضرت مسیح موعود کے نائب حضرت خلیفہ لمسیح الثالث نے 1970ء میں افریقہ کا پہلا دورہ فرمایا، جو 6 ممالک کا تھا۔یہ دنیا کی تاریخ کا ایک عظیم واقعہ تھا کہ اس سرزمین نے پہلی دفعہ خلیفہ المسیح کے قدم چومے اور محبت کا چشمہ اس سرزمین سے پھوٹ پڑا۔حضور دورہ افریقہ کے دوران گیمبیا میں تشریف فرما تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں ایک عظ تحریک القاء کی۔آپ نے فرمایا :۔وو گیمبیا میں ایک دن اللہ تعالیٰ نے بڑی شدت سے میرے دل میں یہ ڈالا کہ تم کم از کم ایک لاکھ پونڈ ان ملکوں میں خرچ کرو اور اس میں اللہ تعالیٰ بہت برکت ڈالے گا“۔(الفضل 20 جون 1970 ء) سکولوں اور ہسپتالوں کا جال اس رقم سے افریقہ میں سکولوں اور ہسپتالوں کا ایک جال بچھانا مقصود تھا۔چنانچہ حضور نے مالی تحریک کے ساتھ واقفین ڈاکٹر ز اور ٹیچرز کو آواز دی جو وہاں بے لوث خدمت کریں۔حضور نے اس سکیم کا اعلان سب سے پہلے دورہ افریقہ کے بعد 24 مئی 1970ء کو مسجد فضل لندن میں فرمایا حضور نے خطبہ جمعہ 12 جون 1970 ء میں اس کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔یہ ایک لاکھ پاؤنڈ کی رقم کم سے کم ہے اور اس سلسلہ میں انگلستان کی جماعتوں میں سے مجھے دوسو ایسے مخلص آدمی چاہئیں جو دو سو پاؤنڈ فی کس کے حساب سے دیں اور دوسو ایسے مخلصین جو ایک سو پاؤنڈ