خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 344
344 تغییر مسیح موعود کی پہلی جلد جو تفسیر سورۃ فاتحہ پر مشتمل تھی جون 1969 ء میں شائع ہوئی۔حضور نے احباب کو اس سے مستفیض ہونے کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر احمدی کو غور کے ساتھ اس پہلی جلد کو پڑھ لینا چاہئے اور اس نیت سے پڑھنا چاہئے کہ قرآن کریم سارے کا سارا اس اجمال کی تفصیل ہے۔اگر کسی شخص کی عقل اور سمجھ اور اس کی محبت ان علوم پر حاوی ہو جائے جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئے ہیں تو قرآن کریم کے بہت سے مطالب اس کے لئے آسان ہو جائیں گے۔اسے بار بار پڑھیں جو شخص چار پانچ دفعہ اس کو غور سے پڑھ جائے اس کے لئے مضمون سمجھنا آسان ہو جائے گا۔قرآنی معارف کے مقابلہ کی دعوت : ( خطبات ناصر جلد 2 ص 693) حضرت مسیح موعود نے مختلف مذاہب کے نمائندوں کو قرآن کریم کے معارف و حقائق کے مقابلہ کا جو چیلنج دیا تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بار بار دہرایا۔20 جون 1969 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔کیتھولک فرقہ کا سر براہ اس وقت پوپ ہے اگر پوپ صاحب یہ چیلنج قبول کریں تو ہم مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔اسی طرح عیسائیوں یا ہندوؤں کے دوسرے فرقے ہیں ان کے جو سردار ہیں وہ مقابلہ کے لئے آئیں۔جو مختلف فرقوں کے سردار ہیں وہ اکیلے اس دعوت کو قبول کریں یا اپنے ساتھ سویا ہزار یا دس ہزار آدمی ملا کر بھی مقابلہ کرنا چاہیں تو ہم اس مقابلہ کے لئے تیار ہیں۔(خطبات ناصر جلد 2 ص 692) 22 جولائی 1967ء کو دورہ یورپ کے دوران حضور نے کوپن ہیگن میں عیسائی دنیا کو حضرت مسیح موعود کا چیلنج دیا کہ اگر آپ سورۃ فاتحہ کے معارف ساری بائبل سے دکھا دیں تو مسیح موعود کی مقرر کردہ انعامی رقم 500 کو بڑھا کر 50 ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔خصوصی درس قرآن حضور کے سارے خطبات و تقاریر قرآن کریم ہی کی تفسیر و توضیح پر مشتمل ہیں۔تا ہم آپ نے خصوصی درس قرآن کا بھی اہتمام فرمایا۔چنانچہ حضور نے 23 مارچ 1968ء کو حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ کے گھر مستورات میں درس قرآن کا آغاز فرمایا۔