خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 327
327 1931ء میں اس مد میں 30 ہزار روپے سے زائد رقم جمع ہوئی جس میں سے سندھ میں خرید کردہ زمینوں کی پہلی قسط ادا کی گئی اور کچھ روپیہ کشمیر فنڈ کے سلسلہ میں بطور ادھار دیا گیا۔حضور اس رفتار ترقی سے خوش نہیں تھے۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔اس قسم کی تحریکیں پیدا ہورہی ہیں جو جلد سے جلد موجودہ نظام دنیا میں تغیر پیدا کر رہی ہیں۔ایسا تغیر جو اسلام کے لئے سخت مضر ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے آج سے دس سال قبل میں نے ریزرو فنڈ قائم کرنے کے لئے کہا تھا۔مگر افسوس جماعت نے اس کی اہمیت کو نہ سمجھا اور صرف 30 ہزار کی رقم جمع کی۔اس میں سے کچھ رقم صدرانجمن احمدیہ نے ایک جائیداد کی خرید پر لگا دی اور کچھ رقم کشمیر کے کام کے لئے قرض لے لی گئی اور بہت تھوڑی سی رقم باقی رہ گئی۔یہ رقم اس قدر تقلیل تھی کہ اس پر کسی ریز روفنڈ کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی تھی۔ہنگامی کاموں کے لئے تو بہت بڑی رقم ہونی چاہئے جس کی معقول آمدنی ہو۔پھر اس آمدنی میں سے ہنگامی اخراجات کرنے کے بعد جو کچھ بچے اس کو اس فنڈ کی مضبوطی کے لئے لگا دیا جائے تا کہ جب ضرورت ہو اس سے کام لیا جا سکے۔(الفضل 9 دسمبر 1934ء) حضور نے مزید فرمایا:۔اگر ایک ہزار آدمی بھی اس بات کا تہیہ کرلے کہ ریز روفنڈ جمع کرنا ہے اور ہر ایک کی رقم دو سو بھی رکھ لی جائے تو بہت بڑی رقم ہر سال جمع ہوسکتی ہے اور پھر اس کی آمد سے ہنگامی کام بآسانی کئے جاسکتے ہیں اور جب کوئی ہنگامی کام نہ ہو۔تو آمد بھی اصل رقم میں ملائی جاسکتی ہے۔جماعت کو یا درکھنا چاہئے کہ جب تک ہنگامی کاموں کے لئے بہت بڑی رقم خلیفہ کے ماتحت نہ ہو کبھی ایسے کام جو سلسلہ کی وسعت اور عظمت کو قائم کریں نہیں ہو سکتے“۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضور کی یہ تحریک بھی شاندار طور پر کامیاب ہوئی۔چنانچہ تحریک جدید کے چندہ کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔اس روپیہ سے جہاں ہم نے دس سال کے عرصہ میں ضروری اخراجات کئے ہیں وہاں اللہ کے فضل سے ایک ریز روفنڈ بھی قائم کیا ہے اور اس ریز روفنڈ کی مقدار 280 مربع زمین ہے۔اس کے علاوہ ابھی ایک سو مربع زمین ایسی ہے جس میں کچھ حصہ کے خریدنے کا ابھی وقت نہیں آیا۔کچھ حصہ گو خریدا تو گیا ہے مگر اس پر ابھی قرض ہے۔اسے اگر شامل کر لیا جائے تو کل رقبہ 380 مربع ہو جاتا ہے۔