خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 320
320 سکیم نہ بنے ، ہر محلہ کے ممبر ذمہ دار سمجھے جائیں اس محلہ کی صفائی کے۔پہلے لوگوں کو منع کرو اور سمجھاؤ کہ گلی میں گند نہ پھینکیں اور اگر وہ پھر بھی باز نہ آئیں تو پھر خود جا کر اٹھا ئیں۔جب وہ خود اٹھا ئیں گے تو پھینکنے والوں کو بھی شرم آئے گی اور جب عورتیں دیکھیں گی کہ جو گند گلی میں پھینکتی ہیں وہ ان کے باپ بھائی یا بیٹے کو اٹھانی پڑتی ہے تو وہ سمجھیں گی یہ برا کام ہے اور وہ اس سے باز رہیں گی۔مشعل راه جلد اول ص 140 ) ہاتھ سے کام کرنے کی عادت: ہاتھ سے کام کرنے کو جب میں کہتا ہوں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ عام کام جن کو دنیا میں عام طور پر برا سمجھا جاتا ہے ان کو بھی کرنے کی عادت ڈالی جائے۔مثلا مٹی ڈھونا یا ٹوکری اٹھانا ہے، کہی چلانا ہے۔اوسط طبقہ اور امیر طبقہ کے لوگ یہ کام اگر کبھی کبھی کریں تو یہ ہاتھ سے کام کرنا ہو گا ورنہ یوں تو سب ہی ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔یہ کام ہمارے جیسے لوگوں کے لئے ہیں کیونکہ ہمیں ان کی عادت نہیں اگر ہم نے اس کی طرف توجہ نہ کی تو ہو سکتا ہے کہ ہماری عادتیں ایسی خراب ہو جائیں یا اگر ہماری نہ ہوں ہماری اولادوں کی عادتیں ایسی خراب ہو جائیں کہ وہ ان کو برا سمجھنے لگیں اور پھر کوشش کریں کہ دنیا میں ایسے لوگ باقی رہیں جو ایسے کام کیا کریں اور اسی کا نام غلامی ہے۔پس جائز کام کرنے کی عادت ہر شخص کو ہونی چاہئے تاکہ کسی کام کے متعلق یہ خیال نہ ہو کہ یہ برا ہے۔مشعل راه جلد اول ص 134 ) وقار عمل کے دوا ہم فوائد: وقار عمل کی حقیقی روح کو اگر اپنی زندگی میں جاری کر لیا جائے تو اس کے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔اس میں سے دو نہایت اہم فوائد جن کا تعلق قومی زندگی سے ہے، بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔اس تحریک سے دوضروری فوائد حاصل ہوں گے۔ایک تو نکما پن دور ہو گا اور دوسرے غلامی کو قائم رکھنے والی روح کبھی پیدا نہ ہوگی۔یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ فلاں کام برا ہے اور فلاں اچھا ہے۔برا کام کوئی نہ کرے اور اچھا چھوٹے بڑے سب کریں۔برا کام مثلاً چوری ہے یہ کوئی نہ کرے اور جو اچھے ہیں ان میں سے کسی کو عار نہ سمجھا جائے۔مشعل راه جلد اول ص 134)