خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 315 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 315

315 دی جاتی ہیں اور چند دوسرے گڑھے میں اور کسی کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ کوئی کام ہوا ہے۔پس پہلی ہدایت تو یہ ہے کہ کوئی ایک کام شروع کیا جائے اور اسے ایسا مکمل کیا جائے کہ کوئی انجینئر بھی اس میں نقص نہ نکال سکے۔دوسری یہ بات ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ دوسرے آدمیوں سے کوئی کام نہیں لیا جاتا۔حالانکہ خدام الاحمدیہ کے کام کرنے کے یہ معنی نہیں کہ دوسروں کے لئے اس میں حصہ لینا ممنوع ہے۔مشعل راه جلد اول ص 90 ، 91 ) کام کی تقسیم اور مقابلہ جات: ہیں:۔حضرت مصلح موعود اپنی تقریر فرمودہ سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ 21 اکتوبر 1945 ء میں فرماتے یہ ضروری ہے کہ روزانہ کام کرنے کی عادت پیدا کی جائے اور کام کی نوعیت کو بدل دیا جائے۔مثلاً ہر محلہ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا کر اس محلہ والوں کے ذمہ لگا دیئے جائیں اور ان کا روزانہ کام یہ ہو کہ ان کی صفائی، درستی اور پانی کے نکاس وغیرہ کا خیال رکھیں اور ہر محلہ کے خدام اپنے محلہ کے صفائی کے ذمہ دار قرار دیئے جائیں اور بجائے مہینہ یا دو مہینہ کے بعد جمع ہو کر کسی سڑک پر مٹی ڈالنے کے ، میرے نزدیک یہ طریق بہت مفید ثابت ہو گا کہ گلیاں اور سڑکیں محلہ وار تقسیم کر دی جائیں کہ فلاں گلی اور سڑک کا فلاں محلہ ذمہ دار ہے اور اس کی صفائی اور درستی نہ ہونے کی صورت میں اس سے پوچھا جائے گا۔اسی طرح محلہ کے گھروں کے متعلق بھی چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا کر خدام میں تقسیم کر دیئے جائیں اور وہ ان گھروں کے سامنے کی صفائی کے ذمہ دار ہوں گے۔ہر مہینہ میں ایک دن معائنہ اور ނ مقابلہ کے لئے مقرر کیا جائے اور تمام محلوں کا دورہ کر کے دیکھا جائے کہ کس محلہ کی صفائی سب۔اچھی ہے۔جس محلہ کی صفائی سب سے اچھی ہو اس کے خدام کو کوئی چیز انعام کے طور پر دی جائے تاکہ تمام محلوں میں ایک دوسرے سے مسابقت کی روح پیدا ہو۔مشعل راه جلد اول ص 430-431) سارا دن کام کریں: حضرت مصلح موعودؓ خطبہ جمعہ 3 فروری 1939ء میں وقار عمل کے لئے ایک اہم ہدایت دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔میرے نزدیک مجلس خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ مہینہ میں ایک دن ایسا مقرر کر دیں۔جس میں