خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 314 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 314

314 30 فروری 1939ء میں وقار عمل کا طریقہ کار سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں:۔و مجلس خدام الاحمدیہ کے ممبران کو چاہئے کہ وہ ایک پروگرام بنا کر اس کے ماتحت کام کیا کریں۔یونہی بغیر سوچے سمجھے کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اب بھی ہاتھ سے کام کرتے ہیں مگر وہ کام کسی پروگرام کے مطابق نہیں ہوتا۔حالانکہ جس طرح بجٹ تیار کئے جاتے ہیں اسی طرح انہیں اپنے کام کے پروگرام واضح کرنے چاہئیں۔مثلاً ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہے۔اس بارہ میں یونہی بغیر پروگرام کے ادھر ادھر کام کرتے پھرنے کی بجائے اگر وہ کسی ایک سڑک کو لے لیں اور اپنے پروگرام میں یہ بات شامل کر لیں کہ انہوں نے سڑک پر بھرتی ڈال کر اسے ہموار کرنا اور اس کے گڑھوں کو پر کرنا ہے یا اسی طرح کا کوئی اور کام اپنے ذمہ لے لیں اور اسے وقت معین کے اندر مکمل کریں تو یہ بہت عمدہ نتیجہ پیدا کرے گا۔بہ نسبت اس کے کہ بغیر ایک معین پروگرام کے وہ کام کرتے جائیں۔مگر یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ بھرتی کے کیا معنی ہیں۔گزشتہ سال جلسہ سالانہ پر چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب آئے تو انہوں نے مجلس خدام الاحمدیہ کے اراکین سے کہا کہ اب کی دفعہ جب کام کرو تو مجھے بھی بلا لینا چنانچہ انہوں نے انہیں بلایا اور وہ بھی ہاتھ سے کام کرتے رہے۔مگر چوہدری صاحب نے مجھے بتایا کہ ان کے ساتھ مل کر کام کرنے میں مجھے معلوم ہوا کہ ان کے کام میں ایک نقص بھی ہے اور وہ یہ کہ سڑک پر جب وہ مٹی ڈال رہے تھے سڑک کے پاس ہی ایک گڑھا کھود کر وہاں سے مٹی لے آتے تھے۔میں نے انہیں کہا کہ اس کا تو یہ مطلب ہے کہ آج آپ سڑک کے گڑھے پر کریں اور کل آپ ان گڑھوں کو پر کرنے لگ جائیں جو اس سڑک پر مٹی ڈالنے کے لئے آپ نے کھود لئے ہیں۔تو یہ ایک نقص ہے جو خدام الاحمدیہ کے کام میں ہے اور اسے دور کرنا چاہئے۔مگر اس کے علاوہ ضروری بات یہ ہے کہ وہ ایک سڑک یا ایک گلی لے لیں اور اس کی صفائی اور مرمت اس حد تک کریں کہ اس سڑک یا گلی میں کوئی نقص نہ رہے۔مثلاً وہ ایک سڑک کس طرح درست کرنا چاہتے ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ انجینئروں سے مشورہ لیں اور ان سے پوچھیں کہ یہ سڑک کس طرح درست ہو سکتی ہے۔پھر جو طریق وہ بتائیں اور جو نقشہ انجینئر تجویز کریں۔اس کے مطابق وہ اس سڑک کی درستی کریں اور چھ مہینے یا سال جتنا وقت بھی اس پر صرف ہو اتنا وقت اس پر صرف کیا جائے۔اور اس سڑک کو انجینئر کے بتائے ہوئے نقشہ کے مطابق درست کیا جائے۔مگر اب یہ ہوتا ہے کہ چند مٹی کی ٹوکریاں ایک گڑھے میں ڈال