خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 303 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 303

303 1923ء سے 1947 ء تک بڑی کامیابی سے چلتا رہا۔1934ء میں تحریک جدید کے مطالبات میں آپ نے 15 واں مطالبہ یہ کیا۔وہ نوجوان جو گھروں میں بیکار بیٹھے روٹیاں توڑتے رہتے ہیں اور ماں باپ کو مقروض بنا رہے ہیں ان کو چاہئے کہ اپنے وطن چھوڑیں اور نکل جائیں۔سترھویں مطالبہ میں فرمایا:۔جولوگ بریکار ہیں وہ بیکار نہ رہیں۔اگر وہ اپنے وطنوں سے باہر نہیں جاتے تو چھوٹے سے چھوٹا جو ا کام بھی انہیں مل سکے وہ کر لیں۔اخبار میں اور کتا بیں ہی بیچنے لگ جائیں۔ریز روفنڈ کے لئے روپیہ جمع کرنے کا کام شروع کر دیں۔غرض کوئی شخص بیکار نہ رہے خواہ اسے مہینہ میں دوروپے کی ہی آمدنی ہو۔دار الصناعت الفضل 9 دسمبر 1934 ء ) احمدی نوجوانوں میں صنعت و حرفت کا شوق پیدا کرنے کے لئے (محلہ دارالبرکات قادیان میں ) دار الصناعت قائم کیا گیا جس کا افتتاح حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے 2 مارچ 1935 ء کو فرمایا۔اس موقعہ پر حضور نے زندہ لے کر خود اپنے دست مبارک سے لکڑی صاف کی اور آرمی سے اس کے دو ٹکڑے کر کے عملاً بتادیا کہ اپنے ہاتھوں سے کوئی کام کرنا ذلت نہیں بلکہ عزت کا موجب ہے۔دار الصناعت میں طلباء کی تعلیم و تربیت اور رہائش کا انتظام تحریک جدید کے ذمہ تھا۔ابتدائی مسائل اور عقائد کی زبانی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔اس کے تین شعبے (نجاری ، ہنگری اور چرمی ) تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بابوا کبر علی صاحب کو ( جو محکمہ ریلوے انسپکٹر آف ورکس کی اسامی سے ریٹائر ہو کر آئے تھے ) آنریری طور پر صنعتی کاموں کا نگران مقرر فرمایا۔یہ صنعتی ادارہ 1947 ء تک بڑی کامیابی سے چلتا رہا۔) تاریخ احمدیت جلد 8 ص 67 پیٹے سیکھیں 21 /اپریل 1939ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے ایک جامع سکیم کا اعلان کیا جس کے 2 حصے ہیں۔