خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 295 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 295

295 13 جولائی کو مسلمانان سرینگر کے ایک اجتماع پر حکومت نے گولی چلا دی۔کئی سو مسلمان گرفتار کر لئے گئے اور مسلم لیڈروں کو گرفتار کر لیا۔جس پر حضرت مصلح موعود نے وائسرائے ہند کے نام تار دیا۔جماعت نے ریاست میں ایک طبی وفد کو داخلہ دینے کی درخواست کی مگر حکومت نے انکار کر دیا۔حضور نے ایک وکیل کوسر یگر بھجوایا اور 500 روپے کی رقم بھی ارسال فرما دی۔پھر حضور نے فورا ایک گشتی چٹھی پنجاب اور ہندوستان کے دوسرے مسلمانوں کو بھی لکھی اور تار بھی دیئے کہ 25 جولائی 1931ء کو ہم شملہ میں جمع ہو کر کشمیر کے معاملہ پر پورے طور پر غور کریں اور اس کے ساتھ ہی آپ نے تین اقدامات فرمائے۔(1) لندن میں احمد یہ مشن کو کشمیر کے حالات پر احتجاج کرنے کے لئے لکھا۔(2) روزنامہ الفضل کو اہل کشمیر پر ظلم و ستم کے خلاف زیادہ پر زور آواز بلند کرنے کا ارشاد فرمایا۔(3) جماعت احمدیہ کے تمام افراد کو تحریک آزادی کے لئے مستعد و تیار کرنے کے لئے 18 جولائی 1931 ء کو قادیان میں وسیع پیمانے پر زبر دست احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا جس میں حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے۔خواجہ غلام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل اور مولوی نظام الدین صاحب مبلغ کشمیر نے مظالم کشمیر پر تقریریں کیں اور ڈوگرہ حکومت کے خلاف زبردست صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے متعدد قرار دادیں پاس کی گئیں۔کشمیر کمیٹی کی صدارت 25 جولائی 1931ء کو شملہ میں مسلم زعماء کی کانفرنس ہوئی جس میں 64 سرکردہ افراد شریک ہوئے۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم کی گئی۔علامہ اقبال نے حضرت مصلح موعود کا نام صدارت کے لئے پیش کیا جس کی سب نے متفقہ طور پر تائید کی۔سیکرٹری مولوی عبدالرحیم صاحب درد تجویز کئے گئے۔حضرت مصلح موعود نے اس شرط پر صدارت قبول کی کہ آپ کی ساری کوششیں آئینی ہوں گی اور روح تعاون پر مبنی ہوں گی۔حضور نے اس خدمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ” میرے ذمہ تو پہلے ہی بہت کام ہیں اتنی عظیم الشان جماعت کا میں امام ہوں اور اس قدر کام کرنا پڑتا ہے کہ بارہ ایک بجے سے پہلے شاید ہی کبھی سونا نصیب ہوتا ہو۔میں نے تو یہ بوجھ صرف اس لئے